حافظ نعیم الرحمان کی سندھ حکومت پر تنقید، پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں
تعلیم کا بجٹ ناکافی ہے، حکومت سے بات چیت جاری ہے، حتمی فیصلہ جلد ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان جلسے سے خطاب کر رہے ہیں اور پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات جاری ہیں۔
کراچی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے ہونے کے باوجود سرکاری اسکولوں کی صورتحال انتہائی تسلی بخش نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے ایک اسکول میں 49 اساتذہ اور صرف 23 طلبہ موجود ہیں، جب کہ سفید پوش طبقہ مہنگائی کے اس دور میں اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنے زیرِ اثر ٹاؤنز میں ترقیاتی کام کروائے ہیں اور نوجوانوں کے لیے بنو قابل پروگرام شروع کیا ہے جس میں اب تک 16 لاکھ افراد رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچائیں۔
دوسری جانب، پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ وزارت خزانہ میں ہونے والی نشست کے دوران تکنیکی بات چیت کے بعد معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کی تکنیکی ٹیم میں فراست شاہ اور انجینئر نصراللہ رندھاوا شامل تھے جنہوں نے حکومتی ماہرین سے مذاکرات کیے۔ جماعت اسلامی نے 1000 اور 1300 سی سی تک کی گاڑیوں کو ریلیف پیکج میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے اور پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے پر زور دیا ہے، جب کہ حکومت نے مرحلہ وار لیوی ختم کرنے کا آپشن دیا ہے۔ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم نے امیرِ جماعت کو بریفنگ دے دی ہے جس کے بعد حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
ادھر سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے حافظ نعیم الرحمان کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع وسطی کے 9 ٹاؤنز جماعت اسلامی کے پاس ہیں اور انہیں تبدیلی لانے سے کسی نے نہیں روکا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جماعت اسلامی اپنی کارکردگی کی ناکامی کا ملبہ میئر کراچی پر ڈال رہی ہے اور شہر کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ قیادت کی اہلیت کا فقدان ہے۔