امریکا نے ایران کے خلاف نئی ٹاسک فورس آئرن گیٹ بنا دی

زمینی راستوں اور بحیرہ کیسپین کی نگرانی کا کام کرے گی، ہیڈکوارٹر فلوریڈا میں ہوگا

November 7, 2026 · بام دنیا
امریکا نے ایران کے خلاف نئی ٹاسک فورس آئرن گیٹ بنا دی

امریکا نے ایران کے خلاف نئی ٹاسک فورس آئرن گیٹ بنا دی

امریکا نے ایران کے خلاف اپنی پابندیوں اور نگرانی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے ایک نئی ٹاسک فورس ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم ایران پر جاری بحری ناکہ بندی کے بعد اٹھایا گیا ہے تاکہ تہران کی زمینی راستوں اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے جدید ہتھیاروں اور دیگر ممنوعہ سامان کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس نئی ٹاسک فورس کے قیام کی ہدایات ایڈمرل بریڈ کوپر نے جاری کی ہیں۔ اس فورس میں تقریباً 20 فوجی اور سویلین اہلکار شامل ہوں گے، جبکہ اس کا مرکزی دفتر امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں قائم کیا گیا ہے۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ٹاسک فورس آئرن گیٹ امریکی حکومت کے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ اس کا مقصد زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی، پابندیوں کے تحت آنے والے مواد اور غیر قانونی مالی ذرائع کی نقل و حرکت کو مؤثر طریقے سے روکنا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا قیام سمندری ناکہ بندی کی کامیابی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق امریکی اداروں کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، اسلحہ ساز فیکٹریوں کی دوبارہ تعمیر اور فوجی سازوسامان کی فراہمی کی صلاحیت کو مزید محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں حالیہ مہینوں کے دوران ایران کو 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے روکا جا چکا ہے۔ اس نئی ٹاسک فورس کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب سمندری راستوں کے ساتھ ساتھ ایران کے زمینی تجارتی اور رسدی راستوں پر بھی پابندیوں کے نفاذ اور نگرانی کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔