جکارتہ: انڈونیشیا کے جنوبی صوبے مالوکو کے جزائر پر 7.6 شدت کے زلزلے سے زمین لرز اٹھی، شہری خوف زدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے کے باعث 15 مکانات اور 2 اسکول کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق زلزلے سے انڈونیشیا کے تنیمبر جزیروں میں دو اسکولوں کی عمارتوں اور 15 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق انہوں نے تین سے پانچ سیکنڈ تک زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے، جس کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔
اعدادو شمار کے مطابق 7.6 کی شدت کے زلزلے کا مرکز بحیرہ بندہ میں تھا، جو ملکو صوبے میں تنیمبر جزائر کے قریب تھا، جہاں تقریباً ایک لاکھ 27 ہزار افراد مقیم ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے پاپوا اور مشرقی نوسا ٹینگارا صوبوں کے ساتھ ساتھ شمالی آسٹریلیا میں بھی محسوس کیے گئے۔
انڈونیشیا کی موسمیات اور جیو فزیکل ایجنسی نے زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کی تھی، جسے تین گھنٹے بعد ختم کردیا گیا تھا۔
ایجنسی کے سربراہ دوائیکوریتا کرناوتی نے کہا: ’زلزلے کے مرکز کے اردگرد لہروں کے مشاہدات کی بنیاد پر سطح سمندر میں کوئی خاص بے ضابطگی یا تبدیلی نہیں دکھائی دی۔‘
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے کہا کہ زلزلے کی گہرائی 105 کلومیٹر (65 میل) تھی اور اس کا مرکز آسٹریلیا کے شمالی سرے سے زیادہ دور نہیں تھا۔
گذشتہ برس جنوری میں بھی 6.2 شدت کے زلزلے نے انڈونیشیا کے سلاویسی جزیرے کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جہاں ہونے والے تباہی میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
2018 میں انڈونیشیا کے سلاویسی جزیرے پر 7.5 شدت کے زلزلے اور اس کے نتیجے میں سونامی کے نتیجے میں 4300 سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے تھے۔
26 دسمبر 2004 کو سماترا کے ساحل پر 9.1 شدت کے زلزلے نے ایک تباہ کن سونامی کو جنم دیا تھا، جس سے پورے خطے میں 220000 ہلاکتیں ہوئی تھیں جن میں 170000 اموات صرف انڈونیشیا میں ہوئی تھیں۔