جنگ کا 8 واں دن: ایران نے اسرائیلی ڈرون مار گرایا، صدر پزشکیان کی خلیجی ممالک سے معافی
ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ کی لائیو اپ ڈیٹس
اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ایرانی میزائل پھٹنے کا منظر
اہم نکات
- ہفتہ کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ 8 ویں دن میں داخل ہوگئی۔ ایک پورا ہفتہ گزرنے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل اپنے اس دعوے کو پورا کرنے میں ناکام ہیں کہ وہ ایرانی اسلحہ تباہ کر دیں گے۔
- دن کا آغاز ایران کی جانب سے میزائل داغنے سے ہوا۔ مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے ہوئے، کچھ میزائل اردن کے اوپر تباہ کیے گئے، بحرین اور سعودی عرب کی طرف بھی میزائل فائر ہوئے ہیں۔
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو مطالبہ کیا تھا کہ ایران غیر مشروط سرینڈر کردے تو معاہدہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی فرمائش کی تھی کہ نئی ایرانی لیڈر کے انتخاب میں ان کا بھی کردار ہونا چاہیے۔

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے معذرت کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران دباؤ میں آ گیا اور اس نے خطے کے ممالک کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا تھا لیکن حالیہ صورتحال میں اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ ایران کو خطے کے ممالک کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔دوسری جانب مسعود پزشکیان نے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں کہا کہ ایرانی قیادت نے پڑوسی ممالک کے خلاف حملے روکنے کی منظوری دی ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کسی بھی ہمسایہ ملک کی سرزمین سے نہ کی جائے۔اسی دوران پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈے اور مفادات ان کے اہم اہداف ہوں گے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران کی جانب سے جارحانہ رویہ برقرار رہا تو امریکا مزید سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے اور ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جنہیں اب تک نشانہ بنانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی ایران کے صوبے ہر مزگان میں ایک اسرائیلی ڈرون کو مار گرایا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈرون ساحلی علاقے کے قریب پرواز کر رہا تھا جسے فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق گرایا جانے والا ڈرون اسرائیل کا جدید جاسوس طیارہ تھا جو مبینہ طور پر ایرانی حدود کے قریب نگرانی کی کارروائی انجام دے رہا تھا۔
دوسری جانب خلیج فارس میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح شمالی خلیج فارس میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام پہلے ہی آبنائے ہرمز کو امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک کے جہازوں کے لیے نو گو زون قرار دے چکے ہیں۔
صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے اور بیشتر آئل ٹینکرز نے اس راستے سے گزرنا عارضی طور پر روک دیا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک پر حالیہ حملوں کے معاملے پر معذرت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کا کسی بھی ہمسایہ ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ایرانی صدر کے مطابق اگر کسی کارروائی سے پڑوسی ممالک کو تشویش یا نقصان پہنچا ہے تو اس پر ایران معذرت خواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی نہیں بلکہ استحکام چاہتا ہے۔عبوری لیڈر شپ کونسل نے بھی اس حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ پڑوسی ممالک کے خلاف کسی قسم کا حملہ یا میزائل کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کونسل کے مطابق یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کسی پڑوسی ملک کی سرزمین سے ایران پر حملہ نہیں کیا جاتا۔صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی امریکا یا اسرائیل کے سامنے سرنڈر کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن اگر یہ سمجھتا ہے کہ ایرانی عوام ہتھیار ڈال دیں گے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ایرانی صدر کے مطابق ایرانی قوم اپنی خودمختاری اور دفاع کے معاملے پر کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائے گی اور ہر صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
عرب لیگ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کل ایک ہنگامی اجلاس منعقد کریں گے جس میں ’متعدد عرب ممالک کی سرزمین پر ایران کے حملوں‘ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
حسام ذکی نے کہا کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والا یہ اجلاس کویت، سعودی عرب، قطر، عمان، اردن اور مصر کی درخواست پر منعقد کیا جا رہا ہے۔
عرب امارات کویت میں امریکی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر ایرانی میزائل و ڈرون حملے

دبئی حکام نے کہا ہے کہ ایک حملے کو ناکام بنانے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے سے پیدا ہونے والے ’معمولی واقعے‘ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق دبئی ایئرپورٹ پر اترنے والی نصف درجن سے زائد پروازوں لینڈ کرنے کی اجازت کی منتظر ہیں۔
قطر نے اعلان کیا ہے کہ ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ محدود پروازیں دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔
ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق فضائی حدود جزوی طور پر کھولی جا رہی ہے، اور اس میں صرف انخلا اور ضروری سامان لے جانے والی کارگو پروازوں کو اجازت دی جائے گی۔
حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے وضاحت کی ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید پروازوں کا انحصار جاری سکیورٹی صورتحال کے جائزے پر ہوگا۔ قطری حکام نے اس ہفتے کے آغاز میں بتایا تھا کہ فوج نے ایئرپورٹ پر ایرانی حملوں کی کوشش ناکام بنا دی۔
ایران سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے باعث پچھلی شب اسرائیل بھر میں سائرن بجتے رہے اور لاکھوں شہری رات بھر پناہ گاہوں کی طرف دوڑتے رہے۔
اطلاعات کے مطابق آدھی رات کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف کم از کم پانچ بیلسٹک میزائل داغے جانے کا پتا چلا جس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں سائرن بج اٹھے اور لاکھوں اسرائیلی شہری پناہ گاہوں میں چلے گئے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ وقفے وقفے سے میزائل داغ کر اسرائیلی شہریوں کو طویل وقت تک پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کیا جائے تاکہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
ادھر اسرائیلی فوج کے مطابق سکیورٹی اداروں کو اندازہ تھا کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں ایران کی جانب سے ایک ہزار تک میزائل داغے جا سکتے ہیں، تاہم اب تک صرف تقریباً دو سو میزائل اسرائیل کی طرف فائر کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے بقول یہ تعداد توقع سے کم ہے جو ان کے مطابق ایران کی میزائل فائر کرنے کی صلاحیت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ وہ اسے اپنی فوجی کارروائیوں کی کامیابی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ایک ایرانی میزائل بغیر پھٹے گرا۔ جب ریسکیو ٹیمیں وہاں جمع تھیں یہ میزائل زوردار دھماکے سے پھٹ گیا
اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ایک ایرانی میزائل بغیر پھٹے گرا۔ جب ریسکیو ٹیمیں وہاں جمع تھیں یہ میزائل زوردار دھماکے سے پھٹ گیا pic.twitter.com/r05KsNEemK
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) March 7, 2026
ایرانی میزائل حملے کی وارننگ کے بعد یروشلم میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداے کے مطابق ایک صحافی کاکہنا ہے کہ اس نے ایک دھماکے کی آواز سنی ہے۔
یہ فضائی حملے کے سائرن بجنے کے بعد ہوا، جس میں ایرانی میزائل حملے کی وارننگ دی گئی۔
اسرائیلی فوج نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اس خطرے کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال ہے اور کچھ دیر بعد حالات کو معمول پر لانے کا اعلان کر دیا گیا۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں سائرن بجا دیے گئے ہیں تاکہ خطرات سے آگاہ رکھا جا سکے۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ ’شہریوں اور مقیم افراد سے گزارش ہے کہ پُرسکون رہیں، قریب ترین محفوظ مقام کی طرف جائیں اور تازہ ترین خبروں کے لیے سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔‘
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا پتا چلا لیا گیا ہے۔ فوج کے بیان کے مطابق دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے تاکہ ان میزائلوں کو روکا جا سکے۔
اسرائیل میں موبائل فونز پر ہنگامی الرٹ بھیج دیا گیا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوراً محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔
ایرانی افواج نے عراقی کردوں کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اگر عراقی کرد رہنماؤں نے امریکہ سے تعاون کیا تو پورا انفراسٹرکچر نشانہ بنے گا، کردوں کو ایسا کچل دیں گے کہ آئندہ سکیورٹی نصیب نہیں ہوگی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یورپی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ جنگ میں شریک ہونے پر وہ جائز اہداف بن سکتے ہیں۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں ماجد تخت روانچی نے کہا کہ ’اگر کوئی ملک امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت میں شریک ہوا تو وہ ایرانی جوابی کارروائی میں جائز ہدف بن جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایرانی حکام ’اچھی نیت کے ساتھ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق عراق میں اربیل میں امریکیوں کے زیر استعمال ہوٹل پر حملہ کیا گیا،امریکی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد آگ لگ گئی۔
حملے میں ہوٹل کو بھی نشانہ بنایا گیا
سعودی وزارت دفاع نے کہا کہ شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے کیلئے چھوڑے گئے6 ڈرون فضا میں ہی مار گرائے۔
تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
ترجمان ایرانی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز سے اسرائیلی اور امریکی جہاز نہیں گزر سکتے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بنف نہیں کیا،ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کو چیلنج کیا ہے کہ ہمت ہے تو آبنائے ہرمز جہازوں کو سیکورٹی دے کر دکھائیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا ضرورت پڑی تو آبنائے ہرمز سے بحریہ تیل سپلائی کرکے دکھائے گی۔
واشنگٹن: سپر پاور نے جنگ جیتنے کے لیے دعاؤں اور عملیات کا سہارا لے لیا۔ کیا واقعی ایسا ہواہے اور اس کی تفصیل کیا ہے؟ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران ایک غیر معمولی منظر سامنے آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کو بلاکر ایک خصوصی دعائیہ تقریب کرائی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ اپنی میز کے پیچھے بیٹھے تھے اور مذہبی رہنمائوں نے انہیں گھیراہواتھا۔
ایک پادری نے اجتماعی دعا کرائی۔اس دوران صدر ٹرمپ،… مزید پڑھیں
اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ اس نے رات بھر بیروت پر ’وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے کمانڈ مراکز‘ اور ایک ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا جہاں ڈرون ذخیرہ کیے گئے تھے ’جو اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے‘۔ یہ سب دارالحکومت کے ضاحیہ علاقے میں ہوا۔
ایک بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ’اسرائیل کے شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
ترجمان پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی کا کہنا ہے کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترجمان پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے کہا کہ ایران نئی قسم کے اسٹریٹجک ہتھیار متعارف کرانے والاہے جو ابھی تک جنگ میں استعمال ہی نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک جو حملے کیے گئے وہ ایران کی اصل صلاحیت کا صرف ایک حصہ تھے۔
گزشتہ روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ آنے والے دنوں میں حملوں کو مزید شدید اور وسیع کیا جائے گا، امریکا اور صیہونی حکومت اندھی ہو چکی ہے۔
امریکی اخبار فنانشل تائمز کے مطابق خلیجی ممالک سعودی عرب،یو اے ای اور قطر جیسی تین بڑی معشتیں امریکہ میں سرمایہ کاری پر دستبرداری سے غور کر رہی ہیں۔
خلیج کی تین بڑی معیشتوں کی اپنے بجٹ اور معیشتوں پر پڑنے والے دباؤ پر بات چیت کریں گی،گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر دستخط ہوئے تھے۔
حالیہ جنگ کے باعث سرمایہ کاری متاثر ہونے سے ٹرمپ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔دو ٹریلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری خطرے میں پر سکتی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی اہداف ایران نے جوابی حملے شروع کردیئے۔
کویت میں امریکی اڈے پر حملے کے بعد امریکہ نے اپنا سفارتخانہ بند کردیا ہے۔
ایران نے بحرین میں اسرائیلی سفارتخانے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اس اعلان پر سعودی عرب کے مشکور ہیں۔
سعودی عرب میں ایران کے سفیر علیرضا عنایتی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سعودی عرب کے اس اعلان کو سراہتا ہے کہ اس کی فضائی حدود، سمندری حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کی جانب سے بارہا یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مملکت کی فضائی، سمندری یا زمینی حدود اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ترکیہ اور آذر بائیجان کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ترکیہ اور آذر بائیجان کی حکمومتوں اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں،سعودی حکام کے مطابق ایسے اقدامات سے سلامتی اور استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔
خام تیل اور قطری گیس لے جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ فراہم کرنے کیلئے چین ایران کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک چینی ٹینکر جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرا۔ تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے اور اس نے اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو سات دن ہو گئے ہیں، جس کے باعث سیکڑوں جہاز اس اہم آبی گزرگاہ میں رکے ہوئے ہیں۔ یہ راستہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس تنازع کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بھارتی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے کے لیے 30 دن کی عارضی رعایت جاری کی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ یہ مختصر مدت کا اقدام صرف اُس تیل پر لاگو ہوگا جو پہلے ہی سمندر میں پھنسا ہوا ہے، لہٰذا روسی حکومت کو اس سے کوئی بڑا مالی فائدہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکہ انڈیا کو ایک اہم شراکت دار قرار دیتا ہے اور توقع ہے کہ نئی دہلی امریکی تیل کی خریداری میں اضافہ کرے گا۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے کامیابی کے ساتھ ایک ڈرون حملہ ناکام بنا دیا، جس کا ہدف دوحہ میں امریکی فوجی اڈہ العدید ایئر بیس تھا۔ واضح رہے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب قطری حکومت نے ملک میں موبائل فونز پر سکیورٹی الرٹس بھیجے، جن میں شہریوں کو کھڑکیوں اور کھلے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
برطانیہ کی حکومت کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ سے برطانوی شہریوں کو نکالنے کے لیے چارٹر کیا گیا پہلا طیارہ لندن سٹینسٹڈ ایئرپورٹ پر اُتر گیا ہے۔
برطانوی نشراتی ادارے کے مطابق یہ پرواز عمان کے دارالحکومت مسقط سے روانہ ہوئی تھی۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جو اسرائیلی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات کے بعد سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’افواج نے بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملوں کی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسرائیلی فوج کے مطابق جمعرات کی رات بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں پر حملے شروع کیے گئے۔ اس سے قبل آئی ڈی ایف نے لاکھوں افراد کو علاقے چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں حملوں کی شدت مزید بڑھائی جائے گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ “ایران کے اوپر فائر پاور میں ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے۔” ان کے مطابق امریکہ کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ موجود ہے اور وہ ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق امریکی فضائیہ نے گزشتہ 72 گھنٹوں میں ایران کے تقریباً 200 اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ 30 سے زائد ایرانی بحری جہاز بھی ڈبو دیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ “چند گھنٹے قبل ہم نے ایک ڈرون بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا، جس کا حجم دوسری عالمی جنگ کے طیارہ بردار جہاز جتنا تھا۔ جب ہم آپ سے بات کر رہے ہیں اس وقت اس میں آگ لگی ہوئی ہے۔”
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران میں امریکی مشن “فیصلہ کُن انداز میں آگے بڑھ رہا ہے” اور تہران کی یہ امید کہ امریکہ حملے جاری نہیں رکھ سکے گا “غلط تاثر” ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی خطے میں ایک ڈرون تباہ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سعودی وزارتِ دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ڈرون کس علاقے میں تباہ کیا گیا ہے یا کسی کی طرف سے لانچ کیا گیا تھا۔
اب سے قبل سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کی جانب سے پرنس سلطان ایئر بیس کی طرف لانچ کیے گئے تین میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور یہ حملے “ہر گھنٹے” کیے جا رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایرانی اہداف کو مقررہ وقت سے “کافی پہلے” تباہ کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ اس موقع پر میجر لیگ سوکر کی چیمپیئن ٹیم انٹر میامی سے ملاقات کر رہے تھے۔
خطاب کے دوران ٹرمپ نے ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی فضائی طاقت اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا، “ان کے پاس اب کوئی فضائیہ نہیں رہی، ان کے پاس فضائی دفاع نہیں ہے۔ ان کے تمام طیارے ختم ہو چکے ہیں اور ان کا مواصلاتی نظام بھی تباہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ٹھیک ہی کر رہے ہیں۔”
ٹرمپ کے اس جملے پر ہال میں موجود کچھ افراد نے ہنسی اور تالیاں بھی بجائیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کے ساتھ “47 سالہ خوفناک دور” رہا ہے اور ان کے بقول ایرانی عوام کو اس حکومت سے نقصان پہنچا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، “ہمارے لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جاری تنازع کے باوجود ان کے پاس تیل کی قیمتیں قابو میں رکھنے کا منصوبہ موجود ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس سے پہلے قیمتیں کم تھیں لیکن “مجھے یہ چھوٹا سا چکر لینا پڑا۔”
بحرین کے حکام نے کہا ہے کہ ایران نے اس کے دارالحکومت منامہ میں دو ہوٹلوں اور ایک رہائشی عمارت پر حملہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ حملوں سے عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے رواں ہفتے ایران نے بحرین میں میزائلوں کے ذریعے امریکی بحریہ کے اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے پرنس سلطان ایئر بیس کی طرف لانچ کیے گئے تین میزائلوں کو تباہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پرنس سلطان ایئربیس کی طرف لانچ کیے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا گیا ہے۔‘
وزارتِ دفاع کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ میزائل کب تباہ کیے گئے یا اور کس نے فائر کیے تھے۔
یہ ایئر بیس صوبہ ریاض کے شہر الخرج میں واقعہ ہے۔
خیال رہے تین مارچ کو سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ’ایرانی حملے‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’تمام بین الاقوامی روایات اور قوانین کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
جمعرات کو سعودی عرب میں ایرانی سفیر علی رضا عنایتی نے ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کرنے کی تردید کی تھی۔