سیکریٹری سندھ ایچ ای سی معین الدین صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ایونٹس میں بڑی تعداد میں طلبہ کی شرکت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ طلبہ میں کتنا ٹیلنٹ پایا جاتا ہے جو اپنی محنت، لگن اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے یہاں اپنی پروڈکٹ لیکر آئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر چیئرپرسن ڈاکٹر طارق رفیع کی قائدانہ صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا جن کی وجہ سے ایسے پروگرامز حقیقت کا رنگ لیتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق رفیع کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود سندھ حکومت نے یونیورسٹیز کی گرانٹ میں زبردست اضافہ کیا ہے اور اسے 14؍ ار ب روپے تک پہنچایا ہے، ریسرچ، جدت اور ایجاد کے معاملے میں طلبا کا یہاں آنا اور اپنی پروڈکٹ عوام کے سامنے اعتماد کے ساتھ رکھنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ طلبہ تحقیق و ایجاد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جامعات بھی ہمارا ساتھ دیں تاکہ وہاں پڑھنے والے بچے وہ پروڈکٹس تیار کر سکیں جو مارکیٹ کی ضروریات اور معیار کے عین مطابق ہو کیونکہ اتنا بڑا تعلیمی بجٹ ہونے کے باوجود اگر ہم اپنی مصنوعات خود مارکیٹ میں لانچ نہ کر سکیں تو اس سے بڑی بدقسمتی کی بات کیا ہو سکتی ہے۔
مہمان خصوصی وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد اسمٰعیل راہو کا کہنا تھا کہ پروگرام میں اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کی شرکت سے مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے اور بچوں سے بات کرکے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ ہمارے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے جس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی جستجو دیکھ مجھے بڑی خوشی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر انہیں موقع ملا تو یہ بڑا کارنامہ سر انجام دے سکتے ہیں۔ میں نے کئی بچوں سے بات کی جس سے مجھے معلوم ہوا کہ وہ کیا سوچتے ہیں، ان کا ویژن کیا ہے، انہیں ایکسپوژر ملنا چاہئے، یہ ضروری ہے، تعلیم کی بہتری کیلئے ہم نے پرائمری تعلیم کیلئے ٹیچرز بھرتی کیے ہیں اور یہ سب میرٹ پر لیے گئے ہیں اور آئی بی اے کے ذریعے ہم نے یہ اقدام کیا تاکہ شفافیت برقرار رہے، مقصد یہی تھا کہ بچوں کو تعلیم دینے والے لوگ بہتر انداز سے منتخب ہو کر آئیں۔
محمد اسمعیل راہوکا کہنا تھا کہ تعلیم کا فروغ ہی ہمارا مقصد ہے اور ایسی تعلیم جس میں طلبہ کا ویژن بہتر ہو، یہ اہم ہے کہ ہم کیا سوچتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات ہے کہ ہم سوچ کر کیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں یہاں طارق رفیع صاحب کا شکریہ ادا کروں گا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ریسرچ اور ایجادات کے شعبے کے حوالے سے بھی بصیرت انگیزی سے کام لے رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز میں اسناد اور مومینٹو تقسیم کیے گئے۔ تقریب کے اختتام پر ایونٹ میں شریک جامعات کے نمائندوں میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔