داعش سے منسلک آسٹریلوی خواتین پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات

شام سے واپسی پر گرفتاریاں، عدالت میں پیشی، سخت سکیورٹی الزامات سامنے آگئے

May 9, 2026 · بام دنیا

اسلامک اسٹیٹ سے منسلک دو آسٹریلوی خواتین پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد

 

آسٹریلیا میں اسلامک سٹیٹ (داعش) سے مبینہ تعلق رکھنے والی تین خواتین پر شام سے واپسی کے بعد سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

53 سالہ کاؤسر احمد اور ان کی 31 سالہ بیٹی زینب احمد کو میلبورن ایئرپورٹ پر گرفتار کیے جانے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں دونوں کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ کاؤسر احمد پر انسانیت کے خلاف جرائم کے چار الزامات جبکہ زینب احمد پر دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پراسیکیوشن کے مطابق کاؤسر احمد نے 2014 میں شام کا سفر کیا اور مبینہ طور پر ایک خاتون کو غلام بنا کر اپنے گھر میں رکھا۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے 10 ہزار امریکی ڈالر میں ایک خاتون کی خریداری میں کردار ادا کیا۔

زینب احمد پر بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی اسی خاتون کو گھر میں قید رکھنے میں مدد کی۔ ان الزامات پر زیادہ سے زیادہ 25 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب سڈنی میں 32 سالہ جنائی سفار کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جن پر دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اور جنگی علاقے میں داخل ہونے کے الزامات ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ 2015 میں اپنے شوہر کے ساتھ شام گئیں جو پہلے ہی داعش میں شامل ہو چکے تھے۔

آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے مطابق یہ تحقیقات ان تمام شہریوں سے متعلق ہیں جو تنازع والے علاقوں میں گئے اور ممکنہ طور پر سنگین جرائم میں ملوث رہے۔

حکام کے مطابق شام کے الرقہ کیمپ میں موجود آسٹریلوی خواتین اور بچوں کے ایک بڑے گروپ کی واپسی کے معاملے کی بھی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حکومت نے بعض افراد پر عارضی واپسی پابندی بھی عائد کی ہے۔