امارات اورمراکش کے بعد بحرین نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی

مراکش اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بعد بحرین بھی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔

بحرینی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے غزہ امن بورڈ میں  شمولیت کی دعوت دی جسے شاہِ بحرین حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے قبول کر لیا ہے۔وزارتِ خارجہ کے مطابق مملکتِ بحرین کا یہ فیصلہ غزہ کے لیے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔

بحرینی وزارت خارجہ کا کہناہے کہ امید ہے بورڈ آف پیس اپنے مقاصد حاصل کرے گا، جن میں تعاون کا فروغ، استحکام کی حمایت، اور سب کے لیے ترقی و خوشحالی کا حصول شامل ہے۔

قبل ازیں امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کی تھی۔

اماراتی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ’متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکا کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے‘۔خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ بورڈ کے چارٹر کے مطابق رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہوگی، جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگی۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا ہے کہ ’بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے‘۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا مختلف عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں، جس میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔بصورت دیگر کوئی بھی ریاست صرف 3سال کے لیے رکنیت رکھ سکے گی۔

اگرچہ ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب مراکش کے بادشاہ نے ٹرمپ کی غزہ امن بورڈ کی بانی رکنیت کی دعوت قبول کرلی۔

مراکش وزارت خارجہ کے مطابق بادشاہ نے بورڈ میں بطور بانی رکن شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی، جس کا مقصد مشرق وسطی میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بورڈ میں محدود تعداد میں بین الاقوامی رہنما شامل ہوں گے جو طویل مدتی استحکام اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہیں۔

وزارت خارجہ نے  کہا کہ مراکش بورڈ کے آئینی چارٹر کی توثیق کر گا اور مشرق وسطی میں ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے عزم کا اعادہ کرے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔