اسرائیلی فوج نے غزہ میں 70 ہزارسے زیادہ فلسطینی شہید کرنے کا اعتراف کرلیا

 

اسرائیلی فوج نے غزہ میں 71 ہزارفلسطینی شہید کرنے کا اعتراف کرلیا۔غزہ کی وزارت صحت کے اعدادوشمار کو درست قراردیتے ہوئے سینیئر اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ اموات کی اصل تفصیل ابھی جائزے کے مراحل میں ہے۔اسرائیلی فوج نے یہ بھی تسلیم کیا کہ غزہ کی وزارت صحت کی فہرست میں وہ فلسطینی شامل نہیں ہو سکتے جو ملبے تلے دبے ہیں لہٰذا اموات کی تعداد مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ٹائمزآف اسرائیل کا کہناہے کہ حماس یہ تعداد 10 ہزار بتاتی ہے۔

 

اس امر کا اعتراف اسرائیلی فوج نے غزہ کے خلاف دو سال سے جاری اپنی مہلک جنگی مہم کے بعد پہلی مرتبہ کیا ہے۔

 

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے جنوری 2026 تک غزہ میں کل 71 ہزار667افراد جان سے گئے،ان میں کم از کم 440 افراد بھوک یا غذائی قلت کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔

 

غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار عالمی تنظیموں، میڈیا اور محققین کے لیے حوالہ رہے ہیں۔تاہم اسرائیلی حکومت نے انہیں کبھی سرکاری طور پر قبول نہیں کیا بلکہ 2024 میں اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا تھاکہ یہ گمراہ کن اور غیر معتبرہیں۔

 

اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیمیں غزہ میں جاری صورت حال کے بارے میں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان بڑھایا بلکہ بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی اور طبی امداد بھی شدید متاثر ہوئے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

 

اقوام متحدہ کے ادارے یو این او سی ایچ اے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں سات اکتوبر 2023 سے 28 جنوری 2026تک کل71 ہزار سے زائد فراد جان سے گئے اور 1 لاکھ 71 ہزارسے زائد زخمی ہوئے۔

 

او ایچ سی ایچ آر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فائر بندی کے بعد 11 اکتوبر 2025سے 21 جنوری 2026 تک کم از کم 216 فلسطینی مارے گئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔