سکھوں کی عالمی تنظیم سکھس فار جسٹس نے ’’ مقبوضہ بھارتی پنجاب‘‘ تنازع اور خالصتان ریفرنڈم کا معاملہ بورڈ آف پیس میں لانے کا مطالبہ کردیا۔ امریکی صدرٹرمپ استصواب رائے پر مذاکرات کرائیں، ”بورڈ آف پیس“ میں شمولیت کیلئے 1 ارب ڈالرز کی پیشکش،اور ٹرمپ کے امن اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئےسکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ ٹرمپ کو ”بورڈ آف پیس“ کے قیام پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، بھارت کے زیرِقبضہ پنجاب جنوبی ایشیا کا ”گرین لینڈ“ ہے۔سکھ فار جسٹس کے رہنما نے کہا کہ بورڈ آف پیس ایسا اقدام ہے جس کا مقصد مذاکرات سے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے بورڈ آف پیس کے تحت خالصتان ریفرنڈم پر مذاکرات کا مطالبہ بھی کیا، انھوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امن کے وژن پر مبارکباد دیتا ہوں۔سکھ رہنما نے کہا کہ پنجاب کا استحکام پورے جنوبی ایشیا کے امن سے جڑا ہے، مودی سرکار پنجاب میں جبر، گرفتاریاں اور جعلی مقابلے کرارہی ہے۔، ٹرمپ بھارتی زیرقبضہ پنجاب کو مستحکم کریں گے تو جنوبی ایشیا مستحکم ہو گا۔گرپتونت سنگھ پنوں کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی زیرقبضہ پنجاب کو نظر انداز کیا گیا تو معاملہ تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
پنوں کے مطابق پرو خالصتان سکھوں کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے ایک ارب ڈالر کی یہ پیشکش ایک واضح مقصد رکھتی ہے۔بورڈ آف پیس کے فریم ورک کے تحت، سکھس فار جسٹس صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھارتی حکومت، خصوصاً مودی حکومت، کو مذاکرات پر آمادہ کریں اور بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب میں خالصتان ریفرنڈم کی اجازت دلائیں۔پنجاب جنوبی ایشیا کا گرین لینڈ ہے۔اس کا جغرافیہ، محلِ وقوع اور اسٹریٹجک گہرائی علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔اگر صدر ٹرمپ خالصتان ریفرنڈم کے ذریعے بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب کو مستحکم کرتے ہیں تو پورا جنوبی ایشیا مستحکم ہو سکتا ہے۔ اگر اس موقع کو نظر انداز کیا گیا تو بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب ایک خطرناک اور خونریز تصادم کی جانب بڑھ سکتا ہے، جس کے عالمی اثرات ہوں گے۔آج بھارت پڑوسی ملکوں پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے ایٹمی اور علاقائی سلامتی کا خطرہ بن چکا ہے اور ایک وسیع تر بھارت،چین،روس اتحاد کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب میں ایک پُرامن اور جمہوری جمہوریہ خالصتان امریکہ کا ایک قابلِ اعتماد اتحادی بن سکتا ہے اور جنوبی ایشیا میں امریکی سلامتی مفادات کے مطابق ایک استحکامی قوت ثابت ہو سکتا ہے۔پنجاب اور سکھ قوم 3 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل ایک قوم ہے، جس کی الگ شناخت، تاریخ اور سیاسی ارادہ موجود ہے، مگر وہ اس وقت بھارتی قبضے میں ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں کا مزید کہناتھاکہ آج بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب ایک ابھرتا ہوا متنازع علاقہ بن چکا ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔خود بھارتی حکومت کے انکشافات کے مطابق، گزشتہ سات دنوں میں پنجاب میں 8,000 سے زائد سکھوں کو “گینگسٹر” قرار دے کر گرفتار کیا گیا ہے۔خالصتان ریفرنڈم کی حمایت کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، جعلی مقابلے اور دہشت گردی کے الزامات استعمال کیے جا رہے ہیں۔جعلی مقابلے اور سیاسی رائے کو دبانا اس بات کے ابتدائی انتباہی اشارے ہیں کہ پنجاب اور مودی حکومت کے درمیان ایک خونریز تصادم جنم لے رہا ہے۔
سکھس فار جسٹس صرف اور صرف پُرامن اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب کی آزادی کے لیے پرعزم ہے، جس کا اظہار خالصتان ریفرنڈم کی صورت میں ہو رہا ہے، جس میں اب تک دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زائد سکھ ووٹ ڈال چکے ہیں۔لیکن جب مودی حکومت ووٹ کا جواب گولی سے دے، جب سیاسی اظہار کو سرحد پار ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے دبایا جائے، اور جب بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور جعلی مقابلے تیز ہو جائیں، تو تشدد کا خطرہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔اسی لیے، صدر ٹرمپ،سکھ فار جسٹس ایک ارب ڈالر کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی پیشکش کر رہی ہے، تاکہ آپ مودی حکومت کو مجبور کر سکیں کہ وہ بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب میں خالصتان ریفرنڈم پر مذاکرات کرے۔کیونکہ پنجاب جنوبی ایشیا کا گرین لینڈ ہے۔اور سکھس فار جسٹس امن کے لیے مذاکرات کی حمایت میں ایک ارب ڈالر کے ساتھ تیار ہے۔
سکھوں کی دوسری عالمی تنظیم "جسٹس آف پیس”نے الزام لگایا ہے کہ بھارتی حکومت نے مشرقی پنجاب میں ایک ہفتے کے دوران وحشیانہ آپریشن میں 8ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیاہے، آزادی کی تحریک دبانے کے لیے گرفتار شدگان پر فوج کے ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز سلوک کیا جارہاہے۔ جسٹس آف پیس کے جنرل سیکرٹری سردار گوبندر سنگھ نےامریکہ سے وڈیو کال پر کراچی پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہاکہ سکھوں نے مشرقی پنجاب کی آزادی کے لیے گزشتہ نصف صدی میں ڈیڑھ لاکھ جانوں کی قربانی دی ہے اور وہ مصمم ارادہ رکھتے ہیں کہ ہم لوگ جلد بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرلیں گے اس کے لیے انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیاکہ انہیں بھی غزہ بورڈ میں شامل کیاجائے جس کے لیے سکھ برادری بورڈ میں ایک ارب ڈالر فنڈ دینے کو تیار ہے۔
سردار گوبندر سنگھ نے کہا کہ ان کی تنظیم پر امن بقائے باہمی پر کار بند ہے اور و ہ تشدد کو مسترد کرتے ہوے بھارتی فوج اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کا پُرامن جدو جہد سے مقابلہ
کرہی ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہاکہ بھارتی حکومت نے ہمارے دو سے زائد اہم رہنمائوں کو امریکہ اور کینیڈا میں قتل کیا جس کے کچھ ملزمان وہاں کی پولیس نے گرفتار کیے ہیں تاہم اصل ملزمان بھارت میں چھپے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک مذہبی جنونی امن دشمن ریاست ہے جس کی اپنے تمام پڑوسیوں سے لڑائی ہے جبکہ بھارتی پنجاب کی آزادی سے یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بفر اسٹیٹ ہوگی جس سے دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کے امکانات مزید کم ہوسکیں گے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos