پاکستان میں ایرانی سفیر امیر مقدم

ایران کے خلاف ایکشن رکوانے۔ مذاکرات کے لئے پاکستان متحرک

 

پاکستان میں ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان ایران کیخلاف جارحیت کی نئی لہر رکوانے اور مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

جمعرات کی شام اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطہ موجود ہے ۔پاکستان نے کشیدگی میں کمی کےلیے مخلصانہ کردار ادا کیااورایران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے۔ خود ایران خطے میں کسی نئی کشیدگی کا خواہاں نہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ہم ہر قسم کی جارحیت سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے امریکا کے مطالبات ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے دعوے زمینی حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہیں۔دراصل مذاکرات سے متعلق امریکی بیانات اندرونی سیاسی مقاصد کےلیے ہیں۔

ایران میں بیرونی مداخلت کی تفصیل جاری کرتے ہوئےایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا کہ 8 جنوری کو اچانک پرتشدد واقعات سامنے آئے، پُرامن احتجاج کے دوران پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے تحفظ کی ہدایت تھی۔خاص کرپولیس کو غیر مسلح رکھا گیا۔اس کے باوجود چند شہروں میں منظم ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی گئی، پُرتشدد عناصر کی تعداد محدود تھی، مگر نقصان شدید ہوا۔اس دوران غیر ملکی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے اشتعال انگیزی کی گئی۔ 8 سے 11 جنوری کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ رہی،تاہم 9 سے 12 جنوری کے دوران بیرونی مداخلت کیخلاف اور حکومت سے اظہار یکجہتی کیلئے عوامی اجتماعات ہوئے۔ 12جنوری کے بعد ایران میں حالات بتدریج کنٹرول میں آنا شروع ہوئے تاہم اسی دوران13 جنوری کو امریکی صدر نے سوشل میڈیا بیان کے ذریعے باغی عناصر کو سرکاری اداروں پر قبضے کی کھلی ترغیب دی۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے نتیجے میں ایران میں شہری ہلاکتیں ہوئیں، ان واقعات میں کئی افراد زخمی ہوئے، متعدد گرفتار کیے گئے۔گرفتار شدگان نے بیرونی ایجنڈے پر پر تشدد کارروائیوں کا اعتراف کیا۔بریفنگ کے دوران ایرانی سفیر نے اس حوالے سے ویڈیو شواہد بھی پیش کئے۔

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا کہ تحقیقات میں واضح طور پر دہشتگرد گروہوں کے بیرونی روابط سامنے آئے اوردہشت گرد نیٹ ورکس کے روابط بے نقاب ہوئے۔ مجموعی مالی نقصان بہت بڑا تھا، سرکاری اور فلاحی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 317 افراد جاں بحق اور 2 ہزار 427 افراد زخمی ہوئے۔ بڑی تعداد میں شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا۔

ایرانی سفیر کے بقول تشدد کے لیے دو بنیادی اہداف میں ایک تو پولیس اور سیکیورٹی فورسز تھے،جبکہ دوسرا ہدف شہریوں میں خوف پھیلانا، خواتین و بچوں کو اُکسانا تھا۔تشدد کا مقصد امریکی مداخلت کا جواز پیدا کرنا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطے میں تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کی ۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کیا جسے کشیدگی میں کمی کیلئے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔