فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

انڈونیشیا میں سرِعام کوڑوں کی سزا پر 21 سالہ لڑکی بے ہوش

جکارتا: انڈونیشیا کے قدامت پسند صوبے آچے میں سخت شرعی قوانین کے تحت ایک جوڑے کو غیر ازدواجی تعلقات اور شراب نوشی کے جرم میں سرِعام 140 کوڑے مارنے کی سزا دی گئی ہے۔ سزا کی تکیمل کے دوران 21 سالہ خاتون درد کی شدت سے بے ہوش ہو گئیں۔

تفصیلات کے مطابق مقامی حکام نے جمعرات کے روز ایک عوامی اجتماع میں اس سزا پر عمل درآمد کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جب تین خاتون اہلکاروں نے باری باری بید کی چھڑی سے خاتون کو کوڑے مارنا شروع کیے تو وہ روتی رہیں اور بالآخر بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ انہیں فوری طور پر اسٹیج سے ہٹا کر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اس موقع پر مذکورہ جوڑے کے علاوہ چار مزید افراد کو بھی مختلف جرائم میں سزائیں دی گئیں۔ ان میں اسلامی پولیس فورس کا ایک اہلکار بھی شامل تھا، جسے ایک خاتون کے ساتھ تنہائی میں پائے جانے پر 23 کوڑے مارے گئے۔ اسلامی پولیس کے سربراہ محمد رضال نے میڈیا کو بتایا کہ مجرم اہلکار کو نہ صرف کوڑے مارے گئے بلکہ اسے فورس سے برطرف بھی کر دیا جائے گا۔

پس منظر: انڈونیشیا کا صوبہ آچے وہ واحد علاقہ ہے جہاں اسلامی قوانین (شریعت) نافذ ہیں، اور وہاں جوا کھیلنے، شراب نوشی اور غیر ازدواجی تعلقات پر سرِعام کوڑے مارنے کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سزاؤں پر تنقید کرتی رہی ہیں، تاہم مقامی حکام اسے جرائم کے سدِباب کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔