ایران اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں ، فو ٹو سوشل میڈیا
ایران اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں ، فو ٹو سوشل میڈیا

ایران مذاکرات اور جنگ  دونوں کے لیے تیار ہے ، عباس عراقچی

انقرہ : ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں لیکن دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

عباس عراقچی نے یہ بات استنبول میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

انھوں نے  کہا کہ ایران اور امریکہ کے حکام کے درمیان کسی ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا تاہم ایران منصفانہ اور برابری کی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس معاملے پر ایران ترکی کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ ایران مذاکرات اور جنگ  دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ الرٹ ہے اور اس بار امریکہ کی براہِ راست مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ’ایران کی سلامتی کسی دوسرے ملک کا مسخلہ نہیں، ایران نہ صرف اپنی فوجی صلاحیتوں کو ’جتنی ضرورت ہو‘ برقرار رکھے گا بلکہ اس میں مزید وسعت دے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اس موقع پر کہا کہ اسرائیل کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں سے باز آنا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ترکی کوشش کر رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات کو ایک نئے فریم ورک پر استوار کیا جائے۔ ان کے مطابق ’انقرہ فوجی حل کے خلاف ہے اور مذاکرات و سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے۔‘

ہاکان فیدان نے بتایا کہ انھوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف سے بھی بات چیت کی ہے۔ ان کے مطابق ترکی نہیں چاہتا کہ خطہ کسی نئی جنگ کا سامنا کرے اور یہ بھی کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ایران تنہا ہو۔‘

ترک وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے حالیہ مظاہروں کے متاثرین کے لیے وہ تعزیت پیش کرتے ہیں ان کے مطابق ’ایران کے مسائل عوام کو خود پُرامن طریقے سے حل کرنے چاہییں، جبکہ بیرونی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ عباس عراقچی اس وقت ایک روزہ دورے پر ترکی میں موجود ہیں جہاں ایرانی میڈیا کے مطابق وہ دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر بات چیت کریں گے بلکہ ترک صدر رجب طیب اردوغان سے بھی ملاقات کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔