امریکا کے شہر منی ایپولس میں ہزاروں مظاہرین نے وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امیگریشن اہلکاروں کو منی سوٹا سے واپس بلایا جائے، یہ احتجاج دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد کیا گیا جو مبینہ طور پر وفاقی امیگریشن ایجنٹس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔
رائٹرز کے مطابق مظاہرین نے منی ایپولس کے ڈاؤن ٹاؤن میں شدید سرد موسم کے باوجود مارچ کیا، جس میں خاندان، بچے، بزرگ اور نوجوان شامل تھے۔ احتجاج 46 ریاستوں تک پھیلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس میں نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو اور واشنگٹن کے بڑے شہر شامل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیشنل امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت منی ایپولس میں 3 ہزار وفاقی افسران تعینات کیے گئے، جو مقامی پولیس کے مقابلے میں پانچ گنا بڑی فورس ہیں۔
احتجاج کا نعرہ تھا: "کوئی کام نہیں، کوئی اسکول نہیں، کوئی خریداری نہیں، آئی سی ای کی فنڈنگ بند کرو۔”
صدر ٹرمپ نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ سرحدی بحران، جو انہیں ورثے میں ملا تھا، اب حل ہو چکا ہے، جبکہ ناقدین ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos