غزہ شہر اور خان یونس پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 29 فلسطینی شہید ہوگئے، الجزیرہ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ شہدا میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔غزہ شہر کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے شہر میں رات بھر بمباری کرنے سے پہلے کوئی پیشگی وارننگ نہیں دی تھی۔
جنگ بندی لکیر کے دونوں جانب اہداف کو نشانہ بنایاگیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حماس پر جنگ بندی کی نئی خلاف ورزیوں کا الزام لگانے کے ایک دن بعد، غزہ بھر میں حملے کیے گئے،طبی حکام کے مطابق ان میں غزہ سٹی کے ایک اپارٹمنٹ کی عمارت اور خان یونس میں ایک خیمہ کیمپ پر حملے بھی شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں میں2خواتین اور دو مختلف خاندانوں کے چھ بچے شامل ہیں۔ شفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ غزہ شہر کے شیخ رضوان محلے میں ایک پولیس سٹیشن پر بھی فضائی حملہ ہوا جس میں افسران اوراہل کاروں سمیت کم از کم 14 افرادشہید اور دیگر زخمی ہوئے،جن میں قیدی بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:اسرائیل کو ساڑھے 6 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری۔اپاچی ہیلی کاپٹرشامل
غزہ میں فلسطینی شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ آج اسرائیلی حملوں میں شہید زیادہ تر بچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے میزائلوں کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور نشانہ بنائے گئے علاقوں میں آگ لگ گئی۔بسال نے مزید کہا کہ غزہ شہر کے شیخ رضوان محلے میں اسرائیلی فورسز کی بمباری سے 7 افراد کو پولیس ہیڈ کوارٹر سے ریسکیوکیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ناصر ہسپتال نے کہا کہ خیمہ کیمپ پر حملے کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی، جس میں ایک باپ، اس کے تین بچوں اور تین پوتوں سمیت7 افرامارے گئے۔
حماس نے تازہ اسرائیلی حملوں کو نئی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ اورثالث ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ حملے بند کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔حماس نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ’’نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جنگ بندی کے معاہدے سے کھیل رہا ہے اور ثالثوں کی کوششوں کو نظر انداز کر رہا ہے‘‘۔
حماس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ غزہ پر مسلسل بمباری اور ایک نئی ہلاکت خیز کارروائی، جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور ایک سنگین جرم ہے۔
اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اکتوبر سے اس کے حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ردعمل ہیں۔ اس نے ایک بیان میں کہا کہ نئے حملےایک دن پہلے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد کیے گئے ہیں، جب سرائیل کے زیر کنٹرول علاقے رفح میں ایک سرنگ سے نکلنے والے کم از کم 4 عسکریت پسندوں کو مار دیا تھا۔
ٹائمزآف اسرائیل کے مطابق ،صیہونی فوج نے غزہ کی پٹی میں فضائی حملوں کی لہر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے کمانڈروں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق،تازہ اسرائیلی حملوں پر غزہ کی پٹی میں خوف و ہراس کی کیفیت ہے۔ لوگ سمجھ نہیں پا رہے کہ کیا ہو رہا ہے، اسرائیلی فوج کی جارحیت میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی کوئی وضاحت نہیں۔ اسرائیلی فوج ہر چیز کو کنٹرول کر رہی ہے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی خصوصیات کو ظاہرکرنا چاہتی ہے کہ یہ روزمرہ کا معمول ہوگا جس کے ساتھ لوگ زندگی گزار یں گے۔
حملوں کی یہ لہر گذشتہ روز رفح کراسنگ(دوبارہ کھولنے) کے بارے میں تمام باتوں کے باوجود سامنے آئی ہے،جس کے بعد امید عروج پر تھی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos