48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے ایٹمی پیشکش کے منتظر ہیں , امریکی عہدیدار
واشنگٹن: امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اگر امریکہ کو اگلے 48 گھنٹوں کے اندر ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران سے تفصیلی تجویز موصول ہوتی ہے تو امریکی مذاکرات کار جمعہ کو جنیوا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے تیار ہیں۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران ایک مسودہ تجویز پیش کرتا ہے تو امریکہ جنیوا میں جمعہ کو ملاقات کے لیے تیار ہے تاکہ یہ جاننے کے لیے تفصیلی مذاکرات شروع کیے جا سکیں کہ آیا ایٹمی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔ امریکی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ایران مکمل ایٹمی معاہدے پر اتفاق سے قبل ایک عبوری معاہدے کے امکان پر بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔
امریکی عہدیدار نے ذکر کیا کہ ٹرمپ کے مشیروں نے اطلاع دی ہے کہ صدر اپنا راستہ بدل سکتے ہیں اور کسی بھی وقت حملے کا حکم دے سکتے ہیں لیکن ان کی ٹیم کے بہت سے ارکان اس وقت انہیں صبر کا مشورہ دے رہے ہیں۔ وٹکوف اور کشنر نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف فوجی حملے کا فیصلہ کرنے سے پہلے سفارت کاری کو ایک موقع دیں۔ ایران کے اس ہفتے کے اوائل میں تجویز بھیجنے کی صورت میں دونوں امریکی مندوبین سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر 27 فروری کو جنیوا میں موجودگی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
منگل 17 فروری کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے آخری دور کے دوران سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے چند دنوں کے اندر ایران کی جانب سے ایک تفصیلی تحریری تجویز پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وٹکوف اور کشنر نے عراقچی کو بتایا کہ ٹرمپ کا موقف ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہ کرناہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایک ایسی ایرانی تجویز پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی جس میں علامتی افزودگی شامل ہو۔