اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی: صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان
ایران جنگ پر لائیو اپ ڈیٹس
جے ڈی وینس کا ریڈ کارپٹ استقبال
- ہفتہ 11 اپریل کو ایران امریکہ تنازعہ 44 ویں دن میں داخل ہو گیا۔ جب کہ جنگ بندی کا یہ پانچوان دن ہے۔
- اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی اور ایرانی وفود اسلام آباد میں موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد سرینا ہوٹل میں فریقین کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔
- سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے پاکستان کی ثالثی میں امریکہ، ایران مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران ڈیل کے لیے بہت بیتاب ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب صدر ٹرمپ سے اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایران بہت بیتابی سے معاہدہ کرنا چاہے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ہمارے درمیان بہت سی چیزوں پر اتفاق ہو گیا تھا لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے۔
تاہم صدر ٹرمپ کو ’یقین‘ ہے کہ ایرانی بالآخر اس پر راضی ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ اس پر راضی نہیں ہوں گے تو کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔‘
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی رہنما معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اور آج صبح ہی انھیں معاہدے کے لیے ’متعلقہ افراد‘ کال موصول ہوئی تھی۔
ایران کی بحری ناکہ بندی کے متعلق سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ’حقیقت میں دنیا کو بلیک میل کر رہا ہے‘ اور وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
لندن: بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے لبنان میں طبی کارکنوں پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آئی سی آر سی کی لبنان میں سربراہ ایگنس دھور نے کہا کہ ’جو لوگ اپنی زندگیاں دوسروں کو بچانے کے لیے وقف کرتے ہیں ان کا نقصان انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ان عام شہریوں پر پڑتا ہے جو ان کی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔‘
ایگنس دھور کا یہ بیان جسے خبر رساں ادارے رائٹرز نے شیئر کیا جنوبی لبنان میں سوموار کے روز لبنانی ریڈ کراس کے ایک مرکز پر حملے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔
بی بی سی نے اس حوالے سے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا ہے اور ان کے جواب کا انتظار ہے۔
واشنگٹن: امریکی فوج نے ایران کے سمندری راستوں کی ناکہ بندی شروع کردی۔
امریکا نے آج سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل اور نکلنے والے جہازوں کی ناکہ بندی کرنے کا اعلان کیا تھا، ناکہ بندی کا عارضی نفاذ جہازوں کی ایرانی پورٹس میں آمد و رفت پر ہوگا۔
امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ خلیج عرب و خلیج عمان میں ایرانی پورٹس سے آنے جانے والے جہازوں پر بھی اس کا نفاذ ہوگا۔
امریکی فوج کے مطابق ناکہ بند علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے یا نکلنے والے کسی بھی جہاز کو روکا، موڑا یا قبضے میں لیا جائے گا۔
خبر ایجنسی کے مطابق ناکہ بندی کے علاقے میں جو جہاز بغیر اجازت داخل ہوگا یا نکلنے کی کوشش کرے گا اسے روکا جائے گا، ناکہ بندی کے علاقے میں جو جہاز داخل یا نکلنے کی کوشش کرے گا اس کا رُخ موڑا یا قبضے میں لیا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان کیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمان نے 13 اپریل کو صبح 10 بجے ایسٹرن ٹائم کے مطابق ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ پاکستانی وقت کے مطابق آج شام 7 بجے سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع ہوگی۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ لیو کی ذاتِ کے خلاف کی جانے والی تنقید کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
ایکس بیان میں کہا گیا کہ ایران کی عظیم قوم کی طرف سے اس گستاخانہ رویے کو مسترد کیا جاتا ہے اور یہ واضح کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جو امن، محبت اور اخوت کے پیغامبر ہیں، کی بے حرمتی کسی بھی آزاد انسان کے لیے قابل قبول نہیں۔بین المذاہب احترام اور مقدس شخصیات کی عزت عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو مذہبی جذبات کو مجروح کریں۔
His Holiness Pope Leo XIV (@Pontifex), I condemn the insult to Your Excellency on behalf of the great nation of Iran, and declare that the desecration of Jesus, the prophet of peace and brotherhood, is not acceptable to any free person. I wish you glory by Allah.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 13, 2026
بیان کے اختتام پر پوپ لیو کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں عزت و وقار عطا فرمائے۔
واشنگٹن/دبئی: مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں کشیدگی کے بڑے اضافے کے پیش نظر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں تمام بحری جہازوں کے لیے سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی فوج نے دریانوردوں (Seafarers) کے نام ایک خصوصی نوٹ میں واضح کیا ہے کہ اب آبنائے ہرمز کے مشرق میں واقع سمندری علاقوں کا مکمل محاصرہ کیا جائے گا۔
نوٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی بحری جہاز، خواہ اس پر کسی بھی ملک کا جھنڈا ہو، اگر وہ بغیر اجازت کے محاصرہ شدہ علاقے میں داخل یا وہاں سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا تو اسے روکا جائے گا، اس کا رخ موڑا جائے گا اور اسے قبضے میں لے لیا جائے گا۔
سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ اس محاصرے کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر جانبدار بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو روکنا نہیں ہے، بشرطیکہ وہ غیر ایرانی مقامات کی جانب جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں۔
واشنگٹن ڈی سی / تل ابیب
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں منگل کے روز اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے براہ راست مذاکرات سے قبل ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے شدید دباؤ پر اسرائیل نے لبنان میں اپنی فضائی سرگرمیاں نمایاں طور پر محدود کر دی ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے بیروت اور لبنان کے دور افتادہ علاقوں میں فضائی حملے مکمل طور پر روک دیے ہیں۔
لبنان میں موجود اسرائیلی زمینی دستوں کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے محدود فضائی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
حزب اللہ کی جانب داغے جانے والے میزائلوں اور حملوں کو ناکام بنانے کے لیے دفاعی کارروائیاں جاری ہیں۔
بیروت:حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے شہر شلومی میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملے کیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل نے علاقے میں فضائی حملوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔
امریکی دھمکیوں کے تناظر میں جن میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ ناکہ بندی شامل ہے مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی جاری ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس کی فورسز نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں مزید وسیع کر دی ہیں۔
فوج کے مطابق بنت جبیل میں ایک حملے کے دوران حزب اللہ کے 100 جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ علاقے سے سیکڑوں ہتھیار بھی برآمد کیے گئے۔
یروشلم: اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحری محاصرہ (Naval Blockade) نافذ کرنے کے فیصلے کی کھل کر حمایت کر دی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔
کابینہ کے اجلاس کے دوران جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران نے پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کے طے شدہ قوانین اور ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، جس کے ردِعمل میں صدر ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کا سخت فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے مزید کہا ہم امریکی صدر کے اس پختہ موقف کی مکمل تائید کرتے ہیں اور اس وقت امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہر سطح پر مسلسل اور قریبی ہم آہنگی جاری ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس کی عبرانی یونیورسٹی (Hebrew University) کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ سروے کے مطابق اسرائیلی عوام کی اکثریت ایران کے ساتھ جاری تنازع میں جنگ بندی کے حق میں نہیں ہے۔
سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اسرائیلی رائے عامہ منقسم ہے تاہم جنگ بندی کی مخالفت کا عنصر نمایاں ہے۔
سروے کے مطابق تقریباً 66 فیصد (دو تہائی) اسرائیلیوں نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی مخالفت کی ہے۔
ایران کے خلاف مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں 39 فیصد اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ حملے جاری رکھنے چاہئیں، جبکہ 41 فیصد کے خیال میں ملک کو دو ہفتوں کے وقفے (جنگ بندی) کا احترام کرنا چاہیے۔
اسرائیلی عوام کی ایک بڑی تعداد (61 فیصد) کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری کارروائیوں پر نہیں ہونا چاہیے۔
یہ رائے تہران کے اس مطالبے کے بالکل برعکس ہے جس میں ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں لبنان میں بھی بمباری روکنے کی شرط رکھی تھی۔
سروے کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیاسی مقبولیت میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
صرف 34 فیصد اسرائیلی اب نیتن یاہو کو بطور وزیر اعظم برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔جنگ کے آغاز پر نیتن یاہو کی مقبولیت 40 فیصد تھی۔
دبئی/واشنگٹن: ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے پیشِ نظر، ایران سے منسلک 2 بڑے آئل ٹینکرز خلیج کی پٹی سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے عالمی اداروں ‘کےپلر’ (Kpler) اور ‘ایل ایس ای جی’ (LSEG) کے مطابق، ان ٹینکرز نے آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے نکل کر کھلے سمندر کا رخ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے سخت بحری ناکہ بندی کا منصوبہ زیرِ بحث ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ٹینکر ‘اورورا’ (Auroura): اس ٹینکر پر ایرانی پیٹرولیم مصنوعات لدی ہوئی ہیں۔
یہ ٹینکر متحدہ عرب امارات کی ‘حمریہ بندرگاہ’ سے لوڈ کیے گئے ڈیزل کے ساتھ روانہ ہوا ہے۔
میدان میں موجود ذرائع کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے جنوبی لبنان کے قصبے العباسیہ کو نشانہ بنایا ہے۔
حملے میں نقصانات کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ 13 اپریل کو صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) اور پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گا۔
اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں انہوں نے لکھا کہ “امریکا 13 اپریل کو صبح 10 بجے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گا۔ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔”
اسرائیل کے علاقے اپر گلیلی میں ایک ڈرون حملے کی اطلاع کے بعد خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد مقامی حکام نے شہریوں کو محفوظ قرار دیتے ہوئے انہیں پناہ گاہوں سے باہر آنے کی اجازت دے دی ہے۔
جنوبی لبنان کے علاقے سریفہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شہید ہوگئے، جن میں ایک کم عمر بچی بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لبنان میں ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طبی سہولیات شدید دباؤ کا شکار ہیں اور درجنوں علاقے متاثر ہو چکے ہیں۔
جنوبی لبنان کے شہر نبتیش اور قصبے پر نئے اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تاہم ابھی تک ہلاکتوں اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کے اہم رکن باقر قالیباف نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایسی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتا اور اس نے پہلے بھی اپنے مؤقف کو ثابت کیا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر امریکیوں نے ایک بار پھر ہمارے ارادوں کا امتحان لیا تو ہم انہیں بڑا سبق سکھائیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے پوپ لیو چہاردہم کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کی مذمت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں خارجہ پالیسی کے لیے “انتہائی ناکام” قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوپ لیو چہاردہم کے خلاف سخت تنقید کی ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب رومن کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی سربراہ نے ایران کے خلاف امریکی صدر کی دھمکیوں کی مذمت کی تھی۔
اپنی طویل پوسٹ میں امریکی صدر نے پوپ لیو کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے “انتہائی خراب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا پوپ نہیں چاہتے جو یہ سمجھے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا قابلِ قبول ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ پوپ لیو “جرائم کے معاملے میں کمزور” اور “جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں بھی کمزور” ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 2 مارچ سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد سے اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2,055 ہو گئی ہے۔
وزارت کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 6,588 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

لبنان حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی اور جنوبی دیہات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں شمالی اسرائیل پر “راکٹوں کی بارش” کی ہے۔
تنظیم کے مطابق اس نے مقامی وقت کے مطابق کیرت شیمونہ اور دیگر علاقوں کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا۔
اس سے قبل بھی حزب اللہ نے کہا تھا کہ گزشتہ ایک دن کے دوران اس نے شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں، بستیوں، اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے 43 حملے کیے۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ “یہ ردعمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے ملک اور عوام کے خلاف اسرائیلی-امریکی جارحیت ختم نہیں ہو جاتی۔

جنوبی لبنان میں راکٹ حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے دو فوجی زخمی ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فوجی ایک ایلیٹ پیراٹروپر ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں شیل کے ٹکڑے لگنے سے زخم آئے۔ اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حزب اللہ نے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی اہداف پر متعدد حملوں کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگی اور عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے کی حمایت جاری رکھے گی۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔
ایک بیان میں ترجمان برطانوی حکومت نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور اسے کھلا رکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ عالمی معیشت کے استحکام اور ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے، جبکہ برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایران کو ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا۔
بیروت: لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کے عبوری امن مشن (UNIFIL) نے اسرائیلی فوج کی جانب سے امن دستوں کو مسلسل نشانہ بنانے، ان کی نقل و حرکت محدود کرنے اور تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر شدید احتجاج کیا ہے۔
یو این مشن کے مطابق آج دو الگ الگ واقعات میں اسرائیلی فوج کے مرکاوا ٹینک نے دانستہ طور پر یو این گاڑیوں کو ٹکر ماری، جس سے ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
وارننگ شاٹس اور جانی خطرہ: گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی اہلکاروں نے ’وارننگ شاٹس‘ کے نام پر یو این گاڑیوں پر براہ راست فائرنگ کی۔ ایک واقعے میں گولی گاڑی سے اترنے والے اہلکار سے محض ایک میٹر کے فاصلے پر لگی۔
سیکیورٹی آلات کی تباہی: اپریل کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج نے نقورہ میں یو این ہیڈ کوارٹر اور ’بلیو لائن‘ پر موجود پانچ دیگر مقامات پر نصب سیکیورٹی کیمرے توڑ دیے ہیں۔
ہفتے کے روز اسرائیلی اہلکاروں نے ہیڈ کوارٹر کے مرکزی گیٹ کے شیشوں پر سپرے پینٹ کر دیا تاکہ امن دستوں کی باہر کی نقل و حرکت دیکھنے کی صلاحیت ختم کی جا سکے۔
یو این مشن نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل امن دستوں کی حفاظت یقینی بنانے اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق کا احترام کرنے کا پابند ہے، تاہم حالیہ کارروائیاں ان عالمی وعدوں کے برعکس ہیں۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ ’دسترس سے باہر نہیں‘ ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بات صدر پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران مذاکرات کے بعد کیا گیا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اس گفتگو کے حوالے سے مختصر بیان جاری کیا ہے۔
ریاض: سعودی عرب نے اپنی سرزمین اور خلیجی ممالک پر عراقی حدود سے ہونے والے مسلسل ڈرون حملوں اور سیکیورٹی خطرات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے عراق کی سفیر صفیہ طالب السہیل کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے انڈر سیکریٹری برائے سیاسی امور، سعود الساطی نے عراقی سفیر سے ملاقات کی اور انہیں ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا۔ اس مراسلے میں مملکت کی سلامتی کو نشانہ بنانے والے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
سعودی حکام کا موقف ہے کہ عراقی سرزمین سے مملکت اور دیگر خلیجی ریاستوں پر ڈرون حملے اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔
سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ عراقی حکومت اپنی سرزمین سے پیدا ہونے والے ان خطرات کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق، سعودی عرب اپنی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
تہران: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ڈرون کے ذریعے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
ویڈیو کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ’تمام آمدورفت اور مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔‘
اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ان کے مطابق اس عمل میں ’کچھ وقت لگے گا۔‘
واشنگٹن/لندن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ اور دیگر کئی اتحادی ممالک آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے بحری جہاز بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سمندری راستوں کی حفاظت کے پیش نظر یہ اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھامیری معلومات کے مطابق برطانیہ اور چند دیگر ممالک مائن سویپرز بھیج رہے ہیں تاکہ سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
قبل ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے “حالات سازگار بنانے” (Setting conditions) کا عمل شروع کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جو بارودی سرنگیں بچھائی ہیں، وہ خود انہیں صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ وہ ان کی درست لوکیشن سے ناواقف ہے۔
صنعا/لندن : بحیرہ احمر میں یمنی ساحل کے قریب مسلح افراد کی جانب سے ایک تجارتی بحری جہاز پر قبضے کی خطرناک کوشش کو کپتان کی حاضر دماغی نے ناکام بنا دیا۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ واقعہ یمنی بندرگاہ الحدیدہ سے تقریباً 54 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں پیش آیا۔ ایک چھوٹی کشتی، جس میں 10 سے 12 افراد سوار تھے، جہاز کے قریب پہنچی۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 4 سے 5 افراد خودکار ہتھیاروں سے لیس تھے۔
مسلح گروہ نے وائرلیس پر جہاز کو فوری طور پر رکنے کا حکم دیا، تاہم جہاز کے کپتان نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ جس پر مسلح افراد نے اپنی کشتی جہاز کے ساتھ لگا کر اس پر سوار ہونے (Boarding) کی کوشش کی۔ صورتحال کو بھانپتے ہوئے کپتان نے فوری طور پر فلیئر (Flare) فائر کیا، جس کے نتیجے میں حملہ آور بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اپنی کشتی سمیت جنوب مشرق کی جانب فرار ہو گئے۔
برطانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز اور اس کا عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
لندن: معروف برطانوی جریدے ‘دی اکانومسٹ، نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے،اب وہ سمجھ چکے ہیں کہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کو تباہ کرنے کی دھکمیوں سے بھر پور اشتعال انگیز بیانات اس طرح لگتے ہیں جیسے وہ اپنی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں ۔ وہ جانتے ہیں کہ نئی جنگ منڈیوں میں خوف و ہراس پیدا کرے گی اور سنہری دور کے دعوے کے بعد وہ خود کو مضحکہ خیز بنا سکتے ہیں ، ٹرمپ کے تین بڑے مقاصد مشرق وسطیٰ کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانا ، ایرانی حکومت کا خاتمہ اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا بڑی حد تک پورے نہیں ہو سکے۔
دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس بھی پیچھے ہٹنے کی وجوہات ہیں ،اس کے رہنما مسلسل نشانہ بن رہے ہیں، توانائی اور نقل و حمل کے نقصان کی وسیع تباہی ملک کو چلانا مشکل بنا دے گی اور وہ پابندیوں کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔
تہران: ایران میں تعلیمی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں جاری حالیہ بحرانی صورتحال کے نتیجے میں سیکڑوں تعلیمی ادارے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
ایرانی حکومت کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اب تک کم از کم 942 اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ ان میں سے 18 اسکول مکمل طور پر زمین بوس ہو چکے ہیں، جن کی عمارتیں اب استعمال کے قابل نہیں رہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کے مطابق حکومت نے متاثرہ اسکولوں کی بحالی کے لیے ہنگامی پلان تیار کر لیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ جن اسکولوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے اور وہ مرمت کے طلب گار ہیں، انہیں دو سے تین ماہ کے مختصر عرصے میں دوبارہ مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا تاکہ طلبہ کا تعلیمی حرج نہ ہو۔
بڑی تعداد میں اسکولوں کی تباہی کے باعث ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر نقصان کی مرمت اور دوبارہ تعمیر حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگی، تاہم فوری بحالی کے اقدامات سے تعلیمی سلسلے کو دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔
تہران: ایرانی پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول ادا کرنا ہوگا۔
روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت قومی مفادات کے پیش نظر آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول اور مینجمنٹ قائم کرے گی۔
ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ ایران امریکیوں پر اعتماد نہیں کر سکتا اور اس حوالے سے پالیسی قومی مفادات کے مطابق ترتیب دی جائے گی۔
دوسری جانب ایران کی آئل ریفائننگ کی بحالی کا عمل جاری ہے، دو ماہ میں 80 فیصد صلاحیت بحال ہونے کی امید ہے۔
ایرانی نائب وزیر تیل محمد صادق عظیمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ حملوں میں تباہ ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت آئندہ 2 ماہ کے دوران 70 سے 80 فیصد تک بحال ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ تقریباً 10 دن کے اندر دوبارہ کام شروع کر دے گا، ملک بھر میں ریفائنریز، ٹرانسمیشن لائنز، آئل ڈپو اور ہوائی جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کی تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا گیا، ملبہ ہٹانے اور خراب آلات کی تبدیلی کے لیے ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جن میں لاوان جزیرے کی ریفائنری بھی شامل ہے۔
اسلام آباد / رامسٹین (جرمنی) ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد امریکی وفد کے تمام ارکان پاکستان سے روانہ ہو گئے ہیں۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب اسلام آباد میں کوئی بھی امریکی عہدیدار “بیک چینل” (خفیہ یا غیر رسمی) بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے موجود نہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ آنے والے وفد نے اسلام آباد سے واپسی کی راہ لی۔ جرمنی میں موجود رامسٹین ایئر بیس پر نائب صدر کے طیارے (ایئرفورس ٹو) کے ایندھن بھرنے کے لیے قیام کے دوران ایک عہدیدار نے بتایا کہ اعلیٰ مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پاکستان سے روانہ ہو چکے ہیں۔ تکنیکی ٹیم کے تمام ارکان بھی واپس چلے گئے۔
جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل کے علاقے اپر گلیلی کی جانب دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کے مطابق اپر گلیلی کے علاقے میتولا میں سائرن بجا دیے گئے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ حملے ضلع صور کے قصبے ہنیہ اور شائتیہ پر کیے گئے۔
تاہم نقصانات کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں مل سکی

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں دھماکا خیز مواد تیار کرنے والی ایک لیبارٹری کو “ختم” کر دیا ہے۔
فوج کے مطابق کارروائی کے دوران 200 پائپ بم، فائر ایکسٹنگوشرز، گیس سلنڈرز جو ممکنہ طور پر دھماکا خیز مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے تھے، اور 50 کلوگرام سے زائد دیسی ساختہ بارودی مواد برآمد کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اس اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں ایک رہائشی عمارت بھی تباہ ہوگئی۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک راکٹ لانچر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو اس کے مطابق اسرائیل کی جانب ’لانچ کرنے کے لیے تیار‘ تھا۔
ٹیلیگرام پر جاری بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جوئیہ کے علاقے میں نصب لانچر کی نشاندہی ہوئی تھی اور وہاں سے راکٹ لانچ ہونے سے پہلے ہی اسے ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کر دیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 2,020 افراد جاں بحق اور 6,436 زخمی ہو چکے ہیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں 165 بچے، 248 خواتین اور 85 طبی عملے کے ارکان شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز اسرائیلی فورسز نے مزید 97 افراد کو جاں بحق اور 133 کو زخمی کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات جاری ہیں، ڈیل ہوتی یا نہیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں آبنائے ہرمز کھل جائے حالانکہ ہم استعمال بھی نہیں کرتے، یہ بات واضح ہے کہ ایران کے خلاف ہم جنگ جیت چکے ہیں۔
ایک صحافی کی جانب سے کیے جانے والے سوال کہ کیا چین ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کی تیاری کررہا ہے؟
جس کے جواب میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین نے اگر ایران کو ہتھیار بھیجے تو اسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، ایران کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات جاری ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شاید ایران نے سمندر میں چند بارودی سرنگیں لگا رکھی ہیں، ہمارے پاس انہیں صاف کرنے والی مشینری ہے، آبنائے ہرمز سے سرنگوں کا خاتمہ کررہے ہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ ایران کی فضائیہ، نیوی ،ریڈار سسٹم سمیت سب کچھ تباہ کردیا گیا ہے، آبنائے ہرمز سے متعلق نیٹو نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔

امریکہ اور ایران کی جانب سے امن مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کو امریکہ کے ’غیر معقول مطالبات‘ نے متاثر کیا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایرانی وفد کی مختلف تجاویز کے باوجود، امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا باعث بنے۔ یوں بات چیت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
دوسری جانب، امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس نے کافی ’لچک‘ اور ’روا داری‘ کا مظاہرہ کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ہدایت کی تھی کہ ’یہاں نیک نیتی سے آئیں اور معاہدہ کرنے کی پوری کوشش کریں۔ ہم نے یہی کیا، مگر بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سک۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’انتہائی سادہ تجویز—ایک فریم ورک—پیش کرکے جا رہے ہیں، جو ہمارا آخری اور بہترین مؤقف ہے۔
فی الحال واضح نہیں کہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کے آئندہ مراحل کیا ہوں گے اور آیا دونوں فریقین میں مزید بات چیت ہوگی یا نہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ “گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے” اور “ایران کو مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں”۔
ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات میں معقول تجاویز اور اقدامات پیش کیے، اب امریکہ پر ہے کہ وہ معاملات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھے۔
ذرائع نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے مذاکرات میں بھی وہی غلط اندازے لگائے جو جنگ میں لگائے تھے، اور خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک امریکہ کسی مناسب معاہدے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
مزید کہا گیا کہ “ایران کو کسی جلدی کی ضرورت نہیں ہے”، جبکہ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے نہ کوئی تاریخ طے کی گئی ہے اور نہ ہی مقام کا اعلان ہوا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات امریکہ کے “ضرورت سے زیادہ مطالبات” کے باعث کسی فریم ورک پر اتفاق کے بغیر ختم ہوگئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف امور، جن میں آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور دیگر معاملات شامل ہیں، فریقین کے درمیان اختلاف کا باعث بنے۔
ایران کے ساتھ ’16 گھنٹے طویل مذاکرات‘ کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق ائیرپورٹ پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور اعلیٰ حکام نے انہیں الوداع کیا۔ اس سے قبل انہوں نے مختصر پریس بریفنگ سے خطاب کیا تھا۔ اور مذاکرات کے حوالے سے صحافیوں کو آگاہ تھا۔ بعد ازاں وہ اپنے وفد کے ہمراہ ایئرپورٹ روانہ ہوگئے۔
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات 16 گھنٹے سے زیادہ طویل ہو گئے ہیں۔ مذاکرات کی طوالت کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر فریقین میں شدید اختلافات بتائے جاتے ہیں۔ امریکہ اس آبی گزرگاہ کو جنگ سے پہلے کی طرح کھلا رکھنا چاہتا ہے جبکہ ایرانی حکام اس پر ٹیکس وصول کرنے کے خواہشمند ہیں۔
اختلافات کی خبر سب سے پہلے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے دی۔ جس کی عرب ٹی وی الجزیرہ نے بھی تصدیق کی۔
الجزیرہ کے مطابق پاکستان نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ کنٹرول کی تجویز دی ہے۔ سینیئر پاکستانی صحافی عاصمہ شیرازی واشنگٹن میں اپنے ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر آبنائے کنٹرول میں مشترکہ گشت کر سکتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔
اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے مذاکرات کرانے میں اچھا کام کیا تاکہ معاہدہ ہو سکے۔
’ہم 24 گھنٹوں سے اسلام آباد میں موجود ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی ہے۔ انھوں نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کیا ہے۔
یہ امریکہ سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہوگی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس چند منٹ میں پریس کانفرنس کریں گے۔
اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ تقریباً 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد وہ کیا کہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صحافیوں سے بات چیت کریں گے۔
سرینا ہوٹل میں سرگرمیوں سے آگاہ ایک ذرائع نے کو بتایا کہ امریکی وفد کے اراکین ایرانی حکام کے ساتھ مل کر پریس سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن ایرانی حکام آمادہ نہیں ہوئے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام اباد کے سرینا ہوٹل میں ہفتہ کی سہ پہر شروع ہونے والے مذاکرات رات بھر جاری رہے مجموعی طور پر یہ مذاکرات 16 گھنٹے سے زیادہ طویل ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پریس کانفرنس کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جس میں اہم اعلانات متوقع ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔
نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن پر نشر بیان میں عبرانی زبان میں کہاکہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن یہ واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے تاریخی نتائج حاصل کیے ہیں۔
13 منٹ کے خطاب میں نیتن یاہو نے جنگ کے دوران اسرائیل کی بڑی کامیابیوں کا ذکر کیا، جن میں ایران کی اعلیٰ قیادت کا قتل اور اس کے جوہری اور میزائل پروگراموں کی تباہی شامل ہے۔ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ یا تو معاہدے کے ذریعے یا دوسرے طریقوں سے ہٹایا جائے گا۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران سیز فائر کی بھیک مانگ رہا ہے۔ تہرانی رجیم بے حد کمزور ہو چکی ہے اوروہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس دعوے کے باوجود، پچھلے ہفتے قومی سطح کے متعدد سرویز میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر اسرائیلی یہ نہیں مانتے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ جیت لی ہے۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی منظوری دے دی ہے، جو اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے پر مشتمل ہونا چاہیے اور یہ ایک حقیقی امن معاہدہ ہونا چاہیے جو نسلوں تک قائم رہے گا۔”
ایران ، امریکہ کے اعلیٰ سطح سفارتی وفود اور پاکستانی حکام پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات میں پیش رفت کے آثار نمایاں ہونے کے بعد تعطل کی اطلاعات ہیں۔
بات چیت کا عمل اب 6 گھنٹوں پر محیط ہو چکا ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے ایک مختصر بیان میں کہا تھاکہ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ اس بیان سے قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں اور تیسرے دور کی توقع ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کی شمولیت سے سہ فریقی مذاکرات اس وقت شروع ہوئے، جب ایران کی پیشگی شرائط پوری کی گئیں، جن میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کمی بھی شامل تھی۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے ایرانی حکومت کی انفارمیشن کونسل کے ترجمان محمد گلزاری کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں ایرانی اور امریکی ماہرین کے درمیان زیرِ بحث امور پر تحریری مسودوں کا تبادلہ ہوا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق گلزاری کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح سے مختلف ایرانی کمیٹیوں نے متعدد اجلاس منعقد کیے، مختلف مؤقف کا جائزہ لیا اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے لیے تیاری کا اعلان کیا۔
صورتحال میں پیش رفت اور بیروت پر حملوں کی بندش کی تصدیق کے حوالے سے لبنان میں ایرانی سفیر کے ساتھ مسلسل رابطوں، جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات پر سخت انتباہ اور ہمارے ملک کے منجمد اثاثوں کی رہائی کے معاملے کے پس منظر میں بالآخر سہ فریقی مذاکرات کا آغاز ہو ا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق، جیسے جیسے سہ فریقی مذاکرات کا ماحول سنجیدہ ہوتا گیا، بات چیت ماہرین کے مرحلے میں داخل ہو گئی جس کے بعد ایرانی وفد کی خصوصی کمیٹیوں کے بعض ارکان بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہو ئے۔ ی
الجزیرہ کے مطابق، مذاکرات کے مقام سے موصول ہونے والی معلومات میں کمی آ گئی ہے۔ ایرانی وفد کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ کے آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات بہت زیادہ جارحانہ ہیں، اور بات چیت تعطل کا شکار نظر آ رہی ہے۔
مذاکرات کب تک جاری رہیں گے، اس بارے میں کوئی واضح صورتحال نہیں ۔ یہ نہیں معلوم کہ کیا یہ بات چیت اتوار کو بھی جاری رہے گی، یا امریکہ کے نائب صدر وینس امریکہ واپسی کے شیڈول میں تاخیر کریں گے۔
اگرچہ کوئی سرکاری روانگی کا شیڈول اعلان نہیں کیا گیا، تاہم توقع تھی کہ وہ پاکستان میں 24 گھنٹے سے کم وقت گزاریں گے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید صدیق نے کہا ہے کہ پاکستان اکیسویں صدی کی تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرانے میں کامیاب رہا ہے۔مخلصانہ کاوشیں رنگ لائی ہیں۔اعلیٰ امریکی شخصیت مذاکرات کی قیادت کررہی ہے، اسی طرح ایران سے بھی اہم ترین عہدے دا ر آئے ہیں۔” امت ڈیجیٹل” سے گفتگو میں ان کا کہناتھاکہ اسلام آباد ٹاکس بہت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہورہی ہیں۔ ان کے نتیجے میں اگر کوئی باقاعدہ سمجھوتہ نہ بھی ہوا توجنگ بندی میں توسیع ضرور ہوگی۔
جاوید صدیق نے مزید کہا کہ پہلے بھی دونوں مذاکرات کرتے رہے ہیں لیکن ان میں وہ نیک نیتی اور اعتمادنہیں تھا جو اب ہے کیوں کہ دونوں نے جنگ کا مزہ چکھ لیا ہے۔ اسلام آباد ٹاکس دنیاکاامن بحال کریں گی۔کسی نہ کسی اتفاق رائے کے بہت امکانات ہیں، ایران کو بھی احساس ہے کہ بہت سے ترقی پذیر ملک بھی مشکلات سے دوچارہیں، وہ آبنائے ہرمزکی بندش کو آگے لے کر نہیں جائے گا۔
امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح سفارتی وفود کے درمیان اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات جاری ہیں، جن میں پاکستان بطور ثالث شامل ہے۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی میں یہ اعلی ترین سطح کے مذاکرات ہیں، جن کا مقصد چھ ہفتوں سے جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اڑھائی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔
ایک ذریعے کے مطابق ابتدائی بات چیت مثبت رہی ہے۔ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ مختصر وقفے کے بعد سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
” اسلام آباد ٹاکس” کے نام سے منعقدہ مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہیں۔
باضابطہ مذاکرات سے قبل دونوں ملکوں کے وفود کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ ابتدائی ملاقاتوں کے آغاز کے ساتھ ہی ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ امریکی فریق کے ساتھ باضابطہ مذاکرات آگے بڑھائے یا نہیں۔ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی معاہدے میں ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک بڑی پیشرفت آغاز میں سامنے آگئی، بی بی سی کے مطابق پاکستانی حکام نے بتایا کہ دونوں فریقوں میں براہ راست مذاکرات شروع ہوگئے ہیں جن میں پاکستان بھی شریک ہے۔
بی بی سی ورلڈ نے انہیں سہ ’فریقی’ مذاکرات قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح سفارتی وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اس ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی معاونت خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کر رہے تھے ۔ وزیراعظم کی معاونت اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سینیٹر محسن رضا نقوی نے کی۔
’دونوں وفود کی تعمیری مذاکرات کے لیے عزم کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔
وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کی جانب پیش رفت کے لیے دونوں فریقین کی سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی حکومت کے وفد نے شہباز شریف سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ اہم اور فیصلہ کن مذاکرات کی شرائط پر تبادلہ خیال کیا۔ ابتدائی ملاقاتوں کے آغاز کے ساتھ ہی ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ امریکی فریق کے ساتھ باضابطہ مذاکرات آگے بڑھائے یا نہیں۔
ایرانی وفد وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔
اسلام آباد میں جاری ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف اور حکومت ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا۔نور خان ائیربیس پہنچنے پر امریکی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ائیرپورٹ پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔
واضح رہے کہ 19 سال کے طویل وقفے کے بعد یہ کسی امریکی نائب صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ اس سے قبل سنہ 2007 میں اُس وقت کے امریکی نائب صدر ڈک چینی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
امریکہ کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ اُن کی ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ کے علاقے ميفادون میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک رہائشی عمارت تباہ ہوگئی، جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ان کا طیارہ لینڈ کر گیا۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ امریکی وفد ایران سے مذاکرات کرے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ خیر سگالی کے طور پر آئے، امریکا پر اعتماد نہیں۔
انہوں نے امریکہ ایران مذاکرات سے پہلے لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ طے شدہ نکات تھے، جن پر عمل ہونا ابھی باقی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ امریکا حقیقی معاہدہ پیش کرے اور ایران کے حقوق تسلیم کرے تو ایران معاہدے کے لیے تیار ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ وعدوں کی پاسداری کرے۔ اس نے لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ کیا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے میں بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دیرپا اور جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کریں، تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور دوبارہ تنازع کی صورتحال سے بچا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق انتونیو گوتریش نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بین الاقوامی تنازعات کا پرامن حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہونا چاہیے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان کی جانب سے ایک ڈرون حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد عرب العرامشہ اور مغربی گلیلی کے متعدد قصبوں میں سائرن بجا دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ دنوں میں مسلسل فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، اگرچہ فریقین کو جنگ بندی کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔
الجزیرہ عربی کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے صوبے نبطیہ میں واقع شہروں تول اور جبشیت پر فضائی حملے کیے ہیں۔
تاحال اسرائیلی فوج کی جانب سے ان حملوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع بھی موصول نہیں ہوئی۔

اسلام آباد مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت کرتے ہوئے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانہ ہوئے تھے۔ مگر ان کے طیارے ایئر فورس ٹو نے ایندھن کے لیے پیرس میں لینڈنگ کی ہے جو کہ شیڈول کا حصہ ہے۔
وائٹ ہاؤس کے پریس پول کے مطابق یہ پرواز ’بلاتعطل‘ رہی اور پریس کیبن میں کسی مہمان کی آمد نہیں ہوئی۔
جے ڈی وینس تقریباً آٹھ گھنٹے قبل امریکہ سے روانہ ہوئے تھے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یواین ایچ سی آر نے کہا ہے کہ لبنان میں بے گھر افراد کے لیے قائم پناہ گاہیں گنجائش سے زیادہ بھر چکی ہیں، جبکہ ملک کے تقریباً نصف سرکاری اسکول اب عارضی پناہ مراکز کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ لبنان میں ضروریات دستیاب سہولیات سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث لبنان میں تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار افراد 680 پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار افراد شام کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں، جن میں وہ شامی شہری بھی شامل ہیں جو پہلے شام کی جنگ کے دوران لبنان آئے تھے، جبکہ تقریباً 39 ہزار لبنانی شہری بھی شام میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زہرانی دریا تک جبری انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے امریکہ نے ایک مضبوط اور باصلاحیت ٹیم روانہ کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز جلد مکمل طور پر بحال ہو جائے گی، جبکہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہونا ایک مثبت اور قابلِ قبول معاہدہ ہوگا۔
اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے لیے امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر پر مشتمل ہوگا۔

مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں حکومت کی جانب سے عائد کردہ انٹرنیٹ ویب سائٹس کی بندش کا دورانیہ 1000 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی کو سختی سے محدود کیے ہوئے ہے، اور یہ کسی بھی ملک میں اپنی نوعیت کی اب تک کی سب سے طویل قومی سطح کی انٹرنیٹ پابندی قرار دی جا رہی ہے۔

امریکہ میں تعینات اسرائیلی سفیر یخیئیل لیٹر نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تو تیار ہے، تاہم وہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
برطانوی اخبار کے مطابق اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں آج اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے درمیان، لبنان میں امریکی سفیر کی موجودگی میں اور امریکی محکمہ خارجہ کی سرپرستی میں ہونے والی گفتگو میں اسرائیل نے آئندہ منگل سے باقاعدہ امن مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے حزب اللہ تنظیم کے ساتھ جنگ بندی پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ یہ تنظیم اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ایرانی حکومت کے مطابق پاکستان پہنچنے والے ایرانی مذاکراتی وفد کے طیارے کا نام حالیہ جنگ کے دوران میناب سکول سے منسوب کیا گیا ہے۔
’میناب 168‘ سے مراد بچوں سمیت وہ 168 ایرانی شہری ہیں جو ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو ایک میزائل حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں ایران کے شہر میناب میں واقع بچوں کا سکول ’شجرۂ طیبہ‘ تباہ ہوا تھا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ حملہ غیر ارادی طور پر امریکی افواج کی جانب سے ہوا تھا۔ اس سے قبل امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کہہ چکے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں لینڈنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں طیارے کی نشستوں پر چار بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ہر تصویر سکول بیگ اور پھولوں کے اوپر رکھی گئی ہے۔
قالیباف نے اپنی پوسٹ میں ان تصاویر کے ساتھ لکھا کہ ’اس پرواز میں میرے ساتھی۔

اسلام آباد مذاکرات کیلئے ایرانی وفد پاکستان پہنچا تو ہوائی اڈے پر استقبال کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ اس وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔
ایرانی وفد کی آمد پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے‘۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے دیرپا اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے فریقین کے درمیان ’سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ نے ایرانی وفد کی آمد کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی مذاکرات کے لیے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر کو ایک جدید میڈیا ہب میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں دنیا بھر سے آنے والے صحافیوں کی سہولت کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
کنونشن سنٹر میں ہائی سپیڈ وائی فائی، مکمل ورک سٹیشنز، لائیو نشریات کے لیے بڑی سکرینز، اور آرام دہ سٹنگ ارینجمنٹس کیے گئے ہیں جن کے تحت مرکزی ہال میں سینکڑوں افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
جنگ رکوانے کے لیے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کے لیے اعلیٰ سطح ایرانی وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔
ایرانی مذاکرات کاروں کا طیارہ رات سوا بارہ بجے راولپنڈی میں نور خان ایئر بیس پر اترا ۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے خصوصی پرواز کو ایسکارٹ کر رہے تھے۔