اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی: صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان
ایران جنگ پر لائیو اپ ڈیٹس
جے ڈی وینس کا ریڈ کارپٹ استقبال
بیروت: حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے لبنانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں متوقع مذاکرات کے دوران اسرائیل کو رعایتیں دینے سے اجتناب کرے۔
’المنار ٹی وی‘ پر نشر ہونے والے بیان میں نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت کسی بھی ایسے معاہدے سے گریز کرے جس سے یہ تاثر ملے کہ اس نے اسرائیل کو بغیر کسی ازالے کے رعایت دی ہے۔
اُنھوں نے اسرائیل کی جانب لبنان میں کی جانے والی بمباری کو مجرمانہ خونریزی قرار دیا، جس میں لبنانی حکام کے مطابق 300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت لبنان کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات شروع کرے گی، جس کا بنیادی نقطہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔
تہران: ایران کی مسلح افواج نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بار بار کی جانے والی “اعتماد شکنی” کے ردعمل میں سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی “انگلیاں ٹرگر پر” ہیں۔
مرکزی ہیڈ کوارٹر برائے حضرت خاتم الانبیا کے حوالے سے ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے رپورٹ کیا کہ ایرانی عسکری حکام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی عسکری ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، جس کا کنٹرول ایران نے سنبھال رکھا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تزویراتی آبی گزرگاہ ایران کے دفاعی اور قومی مفادات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
بیروت/یروشلم: اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے لبنان میں اپنی عسکری مہم میں تیزی لاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اب تک حزب اللہ کے 1,400 سے زائد جنگجوؤں کو “ختم” کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ ہلاکتیں فضائی حملوں اور جنوبی لبنان میں جاری زمینی کارروائیوں کے دوران ہوئیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک حزب اللہ سے وابستہ 4,300 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کیا جا چکا ہے، جن میں اسلحہ کے ذخائر، راکٹ لانچرز اور کمانڈ سینٹرز شامل ہیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیل کی 5 فوجی ڈویژن (91، 36، 146، 162 اور حال ہی میں شامل ہونے والی 98 ڈویژن) بیک وقت “ٹارگٹڈ آپریشنز” کر رہی ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد شمالی سرحد پر خطرات کو ختم کرنا اور حزب اللہ کو دریائے لیتانی سے پیچھے دھکیلنا ہے۔
دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت نے ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے بھاری جانی نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد سے اب تک لبنان میں کم از کم 1,888 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔جاں بحق ہونے والوں میں 163 بچے بھی شامل ہیں۔
زخمیوں کی تعداد: وزارت کے مطابق زخمیوں کی تعداد 6,000 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ہسپتالوں پر مریضوں کا شدید دباؤ ہے۔
تہران: ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ ایران کی 10 نکاتی تجاویز مذاکرات کی بنیاد کے طور پر منظور ہوئی تھیں۔ ایران ایسی جنگ بندی نہیں چاہتا جو جارح کو دوبارہ حملے کی اجازت دے۔
ایک بیان میں ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سفارت کاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔
مجید تخت روانچی نے مزید کہا کہ ایران غلط معلومات کی بنیاد پر بات چیت اور نئے سرے سے جارحیت کی راہ ہموار کرنے کے کسی عمل کو مسترد کرتا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران ایسی جنگ بندی نہیں چاہتا جو جارح کو دوبارہ حملے کی اجازت دے، جو معاہدہ ہو اس میں دشمنی کو روکنے کی ضمانتیں شامل ہونی چاہیے۔
بیروت: جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ میں اسرائیلی فضائیہ کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں لبنانی اسٹیٹ سیکیورٹی کے کم از کم13 اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ لبنانی میڈیا نے اس واقعے کو “ہولناک قتلِ عام” قرار دیا ہے۔
Islamabad Talks. News will break when Washington is fully awake. Yes, the talks are about critical, substantive, and pressing global issues of war, peace, oil and gas. But their outcome is just as critical for domestic constituency. These talks are as much about peace making as…
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) April 11, 2026
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی (NNA) کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے نبطیہ کے بڑے حصے کو نشانہ بنایا، جس میں اسٹیٹ سیکیورٹی کا دفتر بھی شامل تھا۔ ان شدید فضائی حملوں میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، جبکہ کئی افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے کے فوری بعد ایمبولینسز اور امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا۔
تباہ شدہ عمارتوں میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
تہران : ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی نے ایک اہم تجویز پیش کی ہے جس کے تحت اسٹریٹ آف ہارمز (آبنائے ہرمز) سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو اپنی ٹرانزٹ فیس بین الاقوامی کرنسی کے بجائے ایران کی قومی کرنسی ‘ریال’ میں ادا کرنی ہوگی۔
ممبئی میں متعین ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیشن کے سربراہ نے اس نئی پارلیمانی تجویز کی تصدیق کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایرانی معیشت کو مستحکم کرنا اور ڈالر پر انحصار کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
Head of Iran’s Parliament National Security Commission:
Under a parliamentary proposal, transit fees through the Strait of Hormuz would be paid in Iran’s national currency, the #rial.#Iran #Hormuz #StraitOfHormuz pic.twitter.com/0wY2Wy8pUb
— Consulate General of the I.R. Iran in Mumbai (@IRANinMumbai) April 10, 2026
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی اب ‘ایرانی ریال’ میں لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس اقدام سے ایرانی کرنسی کی طلب میں اضافہ اور بین الاقوامی تجارتی لین دین میں ریال کی اہمیت کو بڑھانا مقصود ہے۔
بیروت: لبنان کے صدارتی دفتر کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اگر پہلے جنگ بندی نافذ ہو جائے تو لبنان آئندہ ہفتے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ اہلکار کے مطابق ملاقات کی تاریخ اور وقت کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات ماضی میں بھی کبھی کبھار ہوئے ہیں، لیکن یہ ایک غیر معمولی عمل سمجھا جاتا ہے۔ عموماً دونوں ممالک کے درمیان رابطہ امریکی ثالثی کے ذریعے ہوتا ہے۔
نومبر 2024 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، اور امریکی نمائندے اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ بات چیت کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیں۔
امریکی مذاکراتی وفد کی گاڑیاں ایک سی 17 گلوب ماسٹر3 طیارے میں لائی گئی تھیں ۔خبررساں ادارے روئٹرزنے ایک تصویر جاری کی ہے جس میں امریکی فضائیہ کا ایک ٹرانسپورٹ طیارہ جس پر “Charleston” لکھا ہوا ہے، راولپنڈ ی کے پاکستان ایئر فورس بیس نور خان کی طرف جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی نقل وحرکت اپنی گاڑیوں میں ہوگی۔
گیلپ پاکستان کے تازہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران امریکہ جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔93 فیصد پاکستانیوں نے اس کردار کی حمایت اور 80 فیصد نے پائیدار امن کی امید ظاہر کی ہے۔
سروے کے مطابق 82 فیصد پاکستانی جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ ہیں، جن میں 46 فیصد نے کہا کہ وہ اس حوالے سے مکمل معلومات رکھتے ہیں۔ صرف 14 فیصد افراد لاعلم پائے گئے۔نتائج کے مطابق 93 فیصد شہریوں نے عالمی تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار کی تائید کی، جن میں 72 فیصد نے بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ مخالفت کرنے والوں کی شرح نہایت کم رہی۔
88 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ملک کو عالمی تنازعات میں فعال ثالثی کردار ادا کرنا چاہیے۔5فیصد نے غیر جانبدار رہنے کی رائے دی اور صرف 3 فیصد نے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کی حمایت کی۔سروے میں شامل 80 فیصد افراد پرامید ہیں کہ جنگ بندی دیرپا امن کا سبب بن سکتی ہے، جن میں 44 فیصد نے اسے انتہائی ممکن قرار دیا۔
گیلپ پاکستان کے مطابق یہ سروے 8 اور 9 اپریل کو ملک بھر سے تقریباً ایک ہزار افراد پر مشتمل نمائندہ نمونے پر کیا گیا، جس میں فون کالز کے ذریعے ڈیٹا جمع کیا گیا۔ نتائج کا مارجن آف ایرر 95 فیصد اعتماد کی سطح پر ±2 تا 3 فیصد ہے۔
ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاقتیکہ وہ کوئی دشمنی پر مبنی طرزِ عمل اختیار نہ کریں۔
نائب ایرانی وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ’آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے تاہم تکنیکی وجوہات کے باعث جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ رکھیں۔

امریکہ ایران کے بعد یوکرین اور روس کے درمیان بھی عارضی جنگ بندی ہوگئی۔
نجی ٹی وی کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ جسے یوکرینی صدر زیلنسکی نے بھی منظور کرلیا۔
گزشتہ سال بھی ایسٹر کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان 30 گھنٹے کی جنگ بندی ہوئی تھی تاہم اس دوران دونوں جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔

ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سابق وزیر خارجہ گزشتہ روز اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ یکم اپریل کو امریکا اور اسرائیل کی بمباری میں کمال خرازی کی اہلیہ موقع پر ہی شہید ہوگئی تھیں جبکہ انہیں شدید زخم آئے تھے۔
ڈاکٹر کمال خرازی ایران کی اعلیٰ قیادت کے قریبی مشیر رہے۔ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر تھے اور اس سے قبل علی خامنہ ای کے بھی قریبی ساتھی رہ چکے تھے۔
ایران میں ہفتہ کے روز سے ملک بھر میں تمام بینک شاخیں مکمل طور پر فعال ہو جائیں گی۔ بینک کوآرڈینیشن کونسل نے اس حوالے سے اعلان کیا ہے۔
اعلان کے مطابق تہران میں واقع بینکوں کے مرکزی دفاتر کے یونٹس بھی مکمل طور پر کام شروع کر دیں گے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی افواج نے کسی ملک پر کوئی حملہ نہیں کیا۔
بیان کے مطابق اگر کسی ملک پر حملہ ہوا ہے تو یہ اسرائیل کی سازش ہے، ایرانی افواج کسی پر حملہ کریں گے تو اس کا اعلان کریں گے۔
دوسری جانب ترجمان امریکی سینٹ کام کے مطابق جنگ بندی کے تحت ایران کے خلاف کارروائیاں عارضی طور پر روک دیں، جنگ میں ایران کی نیوی، بحریہ ،دفاعی نظام اور ڈرونز کی صلاحیت ختم کردی، جنگ میں ایران کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیل نے لبنان پر اپنی زمینی و فضائی کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کر دی ہے، جبکہ اس دوران حزب اللہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی اہداف پر 50 سے زائد حملے کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے۔

یران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا بیان سرکاری ٹیلی وژن پر پڑھ کر سنایا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور ایران پر حملہ کرنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ہم ہر نقصان کا ازالہ طلب کریں گے، آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے نیا طریقہ کار اختیار کریں گے، بہادر ایرانی قوم، اس میدانِ جنگ میں فاتح ثابت ہوئے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ متکبر طاقتیں کسی بھی موقع پر خطے کے ممالک کا استحصال کرنے اور انہیں ذلیل و شرمندہ کرنے سے گریز نہیں کریں گی۔

ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
جاپان، جنوبی کوریا، چین اور ہانگ کانگ کے اہم اسٹاک انڈیکسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم آسٹریلیا کا ASX 200 انڈیکس نصف فیصد سے زائد کمی کا شکار ہے۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں شپنگ پر پابندیوں اور امریکہ ایران جنگ بندی کی نازک صورتحال کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔

سعودی عرب نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ حملوں کے باعث اس کی تیل پیداوار اور ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں یومیہ تقریباً 6 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کم ہوگئی ہے جبکہ اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی ترسیل میں بھی تقریباً 7 لاکھ بیرل یومیہ کمی واقع ہوئی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں تازہ فضائی حملوں کے بعد شوکین کا ایک گاؤں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ علاقے میں ’دہشت گردوں‘ کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا اسرائیلی فضائیہ نے لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے حزب اللہ اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔
لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے کئی دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ مکانات بھی تباہ ہوئے ہیں۔
65 ممالک کے سفیروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
بیان میں جنوبی لبنان میں حالیہ حملے کے دوران تین انڈونیشیائی امن اہلکاروں کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا اور ایسے واقعات کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے لیے ایک نئے خصوصی ایلچی کی تقرری کی ہے، جنہیں جلد تہران بھیجا جائے گا۔
میڈیا کے مطابق سابق سفیر برائے کویت Chung Byung-ha کو نیا ایلچی مقرر کیا گیا ہے، جو ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جنوبی کوریائی جہازوں اور شہریوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے۔
ایک روز قبل جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت جنوبی کوریا کے 26 جہازآبنائے ہرمزمیں پھنسے ہوئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز سے فیس لے رہا ہے۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران ایسا کررہا ہے تو اب روک دے۔
قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے بہت پُرامید ہیں، اسرائیل لبنان پر حملے کم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی رہنما بہت حد تک معقول ہیں، اگر انہوں نے معاہدہ نہ کیا تو بہت تکلیف دہ ہوگا۔

ایران کے نائب صدر محمد رضاعارف نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے عبوری جنگ بندی ممکن بنانے پر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں فعال طور پر شرکت کرے گا تاہم امریکہ کی دھوکہ دہی والی فطرت کے سبب گہرے شکوک وشبہات باقی رہیں گے۔
محمد رضا عارف نے کہا کہ ایران اسلام آباد مذکرات میں پوری اتھارٹی کے ساتھ شریک ہوگا اوران مذاکرات کا ہدف اپنی فوجی کامیابیوں ک وسفارتی طور پر مزید تقویت دینا ہوگا۔
نائب صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت ایران میں موجود دیرپا استحکام اور فاتح قوت شہید آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کی تعلیمات کے سبب ہے اور یہ نظریاتی فریم ورک طاقت کے سرچشمے کو شخصیات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ یہ قوم کی امنگوں اور نہ ختم ہونے والے حکمرانی کے نظام میں موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے ان چالیس دنوں میں ایران نے نہ صرف دشمن کے تخمینے کو غلط ثابت کیا بلکہ قوم کے عزم نے نئے افق کھولے۔ یہ جنگ نہ صرف فوجی فتح ہے بلکہ اسٹریٹیجک حکمت عملیوں میں علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کے لیے فیصلہ کن موڑ ہے۔
ایران کے نائب صدر نے کہا کہ بربریت پر اترے غیر مہذب دشمن نے سمجھا تھا کہ ایک اہم لیڈر کے نقصان سے ایک عہد کا خاتمہ ہوجائےگا تاہم قوم کے عزم نے دشمن کو سیاسی اور سیکیورٹی محاذوں پر تاریخی شکست دی۔
اپنے بیان میں محمد رضا عارف نے ایرانی عوام کے مظاہروں کو سوفٹ پاور قرار دیا۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کے نمائندے نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے اتفاق رائے میں لبنان بھی شامل ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستانی نمائندے نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اتفاق میں لبنان میں دشمنی کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا نہیں جانتا کہ لبنان میں بھی پرتشدد کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس بارے میں کنفیوژن کیوں ہے؟ یہ بات واضح طور پر جنگ بندی اتفاق رائے کا حصہ تھی۔
امریکا ایران جنگ بندی کے بعد پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج شروع ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے ۔ بات چیت کا اہم اور مرکزی مرحلہ ہفتے کو ہوگا۔
امریکہ کی طرف سے نائب صدر جے ڈی وینس، صدارتی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شرکت کریں گے۔
ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کریں گے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بند کمروں میں حساس بات چیت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اختتام ہفتہ پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔
تل ابیب/بیروت : اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ “جلد از جلد” براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے دائرہ کار پر شدید ابہام پایا جاتا ہے اور لبنان میں اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ بیروت کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کے بعد کیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پرامن تعلقات کا قیام ہے۔
نیتن یاہو نے لبنانی وزیراعظم کی جانب سے بیروت کو غیر فوجی علاقہ (Demilitarize) قرار دینے کی تجویز کا بھی خیر مقدم کیا۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے قریبی معتمد اور سابق وزیر رون ڈرمر کو لبنان کے معاملے پر مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔
ماسکو: روس نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان کارروائیوں سے جاری مذاکراتی کوششیں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ اقدامات خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا اس قسم کی کارروائیاں لبنان کو ایک بڑے انسانی المیے کے دہانے پر دھکیل رہی ہیں اور ملک کی پہلے سے نازک سماجی و اقتصادی صورتحال کو مزید ابتر کر رہی ہیں۔
روس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، کیونکہ بڑھتے ہوئے حملے نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں
بیروت: لبنان کی سماجی اُمور کی وزیر نے کہا ہے جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے لبنان کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔
بی بی سی سے گفتگو میں سماجی اُمور کی وزیر حنین سید کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لبنان کو جنگ بندی کی شرائط میں شامل کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بیروت میں بدھ کو اسرائیلی حملے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں تھیں اور اس معاملے پر سلامتی کونسل سے رُجوع کیا جائے گا۔
تہران: ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو محدود کرنے پر رضامند نہیں ہو گا۔
رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے 40 روز مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ ’ایران افزودگی کے پروگرام کو محدود کرنے کے دُشمنوں کے دعوے اور مطالبات محض خواہشات ہیں جو قبر میں اُن کے ساتھ جائیں گی، ہمیں کوئی قانون یا شخص اس نہیں روک سکتا۔‘
محمد اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ ’دُشمن‘ مذاکرات کے ذریعے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ میں حاصل نہیں کر سکے۔
تہران : ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے لبنان کو شامل کرنا ناگزیر ہے، جبکہ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے چند گھنٹے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ کے مطابق،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ سعید خطیب زادہ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو رہا ہے۔ تاہم، مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل ایران نے سخت شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔
سعید خطیب زادہ نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ، اسرائیل کو لبنان پر حملے کرنے سے روکے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا کوئی بھی عمل لبنان کو نظر انداز کر کے مکمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے موجودہ سفارتی صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے چند گھنٹے خطے کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ 9 اپریل 2026 کے دوران گزشتہ چند گھنٹوں میں ملکی فضائی حدود میں کسی قسم کا کوئی فضائی خطرہ سامنے نہیں آیا۔
وزارت کے مطابق یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے کسی بیلسٹک میزائل، کروز میزائل یا بغیر پائلٹ طیارے (یو اے وی) کی لانچنگ کا کوئی سراغ نہیں لگایا۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام مجموعی طور پر 537 بیلسٹک میزائل، 26 کروز میزائل اور 2,256 ڈرونز کو ناکارہ بنا چکے ہیں۔
حالیہ گھنٹوں میں کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جس کے باعث زخمیوں کی مجموعی تعداد 224 پر برقرار ہے۔ زخمیوں میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں اماراتی، مصری، سوڈانی، ایتھوپیائی، فلپائنی، پاکستانی، ایرانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈین، اریٹریائی، لبنانی، افغانی، بحرینی، کومورین، ترک، عراقی، نیپالی، نائجیرین، عمانی، اردنی، فلسطینی، گھانوی، انڈونیشی، سویڈش، تیونسی، مراکشی اور روسی شہری شامل ہیں۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں امریکہ کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔
صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت اور فضائی حملوں نے مذاکرات کی اہمیت کو ختم کر دیا ہے، کیونکہ مسلسل حملوں کی موجودگی میں بامقصد بات چیت ممکن نہیں رہتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کسی بھی صورت لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور ان کی حمایت جاری رکھے گا۔
سیول: جنوبی کوریا نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے اپنا خصوصی ایلچی تہران بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے مطابق، وزیر خارجہ چو ہیون نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران چو ہیون نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
کوریائی وزیر خارجہ نے عالمی تجارت کے لیے اہم بحری گزرگاہ ‘تنگہ ہرمز’ (Strait of Hormuz) میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
توقع ہے کہ جنوبی کوریا کا خصوصی ایلچی جلد تہران کا دورہ کرے گا جہاں وہ ایرانی حکام سے خطے میں استحکام اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے حزب اللّٰہ کے چیف نعیم قاسم کے بھتیجے اور پرسنل سیکریٹری علی یوسف حارشی کو شہید کرنے کا دعویٰ کر دیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللّٰہ کے رہنما نعیم قاسم کے بھتیجے اور ذاتی سیکریٹری علی یوسف حارشی کو بیروت میں رات کے وقت ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق یہ کارروائی خاص طور پر بیروت کے علاقے میں علی یوسف حارشی کو مارنے کے لیے کی گئی، جو حزب اللّٰہ میں ایک اہم مددگار کے طور پر کام کر رہے تھے۔
ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سلطان احمد الجابر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر غیر مشروط کھولا جانا چاہیے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلطان احمد الجابر سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم لنکڈ ان پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت بند ہے اور اسے فوری طور پر بغیر کسی شرط کے کھولا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک اہم قدرتی آبی گزرگاہ ہے، جس پر بین الاقوامی قوانین لاگو ہوتے ہیں اور یہ قوانین آمدورفت کے حق کی ضمانت دیتے ہیں، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے۔
تل ابیب: اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے ’جہاں بھی ضروری ہوا‘ حزب اللہ کے خلاف حملے جاری رکھے گا۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان میں شامل نہیں ہے، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیل کے مسلسل حملے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے کہ جو بھی اسرائیلی شہریوں کے خلاف کارروائی کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اپنے شمالی علاقوں میں سکیورٹی مکمل طور پر بحال نہیں کر لیتے، ہم حزب اللہ کو جہاں بھی ضروری ہوا نشانہ بنائیں گے۔
نیتن یاہو کا یہ بیان اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے بھتیجے اور علی یوسف حرشی کی ہلاکت کے اعلان کے بعد آیا ہے۔
ابو ظہبی: برطانوی وزیرِ خارجہ ایویت کوپر نے کہا ہے کہ لبنان کو بھی فوری طور پر دو ہفتے کے جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملوں پر اُنھیں بہت تشویش ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنا اسرائیل کی سکیورٹی اور خطے کی وسیع تر سکیورٹی کے لیے بہتر ہو گا۔
دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر مشرق وسطی کے معاملات اور ایران جنگ سے متعلق بات چیت کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں۔
ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری حملوں کی وجہ سے دو ہفتے کے جنگ بندی معاہدے پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل برطانوی وزیرِ اعظم نے سعودی ولی عہد محمد سلمان سے جدہ میں ملاقات کی تھی اور اب اُن کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات متوقع ہے۔