امریکہ اور اسرائیل کے 1,332 حملے، 21 طبی و امدادی مراکز تباہ ہوئے ،ایرانی ہلالِ احمر

مراکز کی تباہی سے مقامی آبادی کے لیے طبی امداد کی فراہمی ناممکن ہو گئی ، انسانی بحران کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں ، ترجمان ہلال احمر

               
March 6, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران: ایرانی ہلالِ احمر (Red Crescent) نے ایک ہنگامی پریس بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران میں جاری فوجی کشیدگی کے دوران طبی اور امدادی مراکز کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اب تک امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے636 مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 1,332 حملے کیے جا چکے ہیں۔

ہلالِ احمر کے ترجمان نے بتایا کہ ان حملوں نے انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ اب تک 21 اہم طبی اور امدادی مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان مراکز کی تباہی سے مقامی آبادی کے لیے طبی امداد کی فراہمی ناممکن ہو گئی ہے، جس سے انسانی بحران کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

 رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، عالمی کنونشنز کے تحت طبی مراکز، ہسپتالوں اور امدادی کارکنوں کو جنگی کارروائیوں سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے، تاہم حالیہ واقعات میں ان اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔

ایرانی ہلالِ احمر نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی تنصیبات پر حملے بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔