کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کردیں ، ایرانی صدر
ثالثی اُن فریقوں سے ہونی چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کمزور سمجھا اور اس تنازع کو بھڑکایا، ایکس پر بیان
فائل فوٹو
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں اُن ممالک کی طرف ہونی چاہئیں جنہوں نے اس تنازع کو شروع کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے ایران سنجیدہ ہے، تاہم ملک کی خود مختاری اور وقار کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ واضح رہنا چاہیے کہ ہم خطے میں دیرپا امن کے لیے پُرعزم ہیں، لیکن اپنی قوم کے وقار اور خودمختاری کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کریں گے۔ ثالثی اُن فریقوں سے ہونی چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کمزور سمجھا اور اس تنازع کو بھڑکایا۔
Some countries have begun mediation efforts. Let's be clear: we are committed to lasting peace in the region yet we have no hesitation in defending our nation's dignity & sovereignty. Mediation should address those who underestimated the Iranian people and ignited this conflict https://t.co/MxWCuNYOYR
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 6, 2026
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد جنگ ساتویں روز میں داخل ہوگئی ہے ، ایران میں امریکا اسرائیل جنگ میں اب تک شہدا کی تعداد 1 ہزار 332 ہوگئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی شہر شیراز میں امریکا اسرائیل حملے میں20 افراد شہید ہوگئے، حملےمیں شیراز کے رہائشی علاقےکو نشانہ بنایا گیا۔