افغان وزیراعظم اور سراج الدین حقانی سمیت 22 طالبان رہنماؤں پر عالمی پابندیاں عائد
وزیر اعظم ملا محمد احسن اخوند ،،نائب وزیراعظم برائے اقتصادی ملا عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، مولوی عبدالسلام حنفی شامل
فائل فوٹو
رپورٹ : افضل شاہ یوسفزئی
اسلام آباد : اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے افغان طالبان کی قیادت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے عبوری حکومت کے وزیر اعظم سمیت 22 سینئر رہنماؤں پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
اقوام متحدہ کی پابندیوں کے تحت نامزد رہنماؤں پر عالمی سفری پابندی عائد ہوگی جبکہ عالمی مالیاتی نظام میں موجود ان کے اثاثے بھی منجمد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ تمام رکن ممالک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان افراد کو کسی بھی قسم کے ہتھیار یا عسکری سامان کی فراہمی سے گریز کریں۔پابندیوں کی زد میں آنے والی نمایاں شخصیات میں افغان عبوری حکومت کے وزیر اعظم ملا محمد احسن اخوند ،،نائب وزیراعظم برائے اقتصادی ملا عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، مولوی عبدالسلام حنفی شامل ہے۔
اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی افغان طالبان حکومت کو تاحال عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے رکن ممالک کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ان اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ نامزد رہنماؤں کی بین الاقوامی سفر اور مالیاتی نظام تک رسائی محدود کی جا سکے ۔