اقوام متحدہ کا افغان طالبان کے خلاف بڑا ایکشن: رہنماؤں کے ‘نام نہاد’ سفارتی پاسپورٹس بلیک لسٹ
پاسپورٹس کابل پر قبضے کے بعد جاری ہوئے تھے، اسی پر متقی بھارت گئے، دیگر معلومات بھی اپ ڈیٹ
فائل فوٹو
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان حکومت کے لیے سفارتی محاذ پر گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کے اعلیٰ رہنماؤں کے زیرِ استعمال ‘نام نہاد’ سفارتی پاسپورٹس کو اپنی عالمی پابندیوں کی فہرست (Sanctions List) کا حصہ بنا لیا ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد طالبان رہنماؤں کی بین الاقوامی سطح پر نقل و حرکت کو مکمل طور پر مفلوج کرنا اور انہیں حاصل “سفارتی استثنیٰ” کے تاثر کو ختم کرنا ہے۔
سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی نے افغان طالبان رہنماؤں سے متعلق دیگر تفصیلات بھی اپ ڈیٹ کی ہیں۔ وہ رہنما جن کے بارے میں خیال تھا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں ان کے نئے پتے فہرست میں ڈالے گئے ہیں۔
تاہم سب سے اہم اقدام پاسپورٹس پر کیا گیا ہے۔۔
اقوام متحدہ کی دستاویز کے مطابق، طالبان کے مختلف وزراء اور عہدیداروں نے اقتدار میں آنے کے بعد کابل اور قندھار سے نئے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹس جاری کیے تھے، جنہیں اب بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ ان میں درج ذیل اہم نام شامل ہیں:
- ملا محمد حسن آخوند: ان کا پاسپورٹ (P04581926) قندھار سے 7 اگست 2024 کو جاری ہوا، جسے اب عالمی پابندیوں کی زد میں لا دیا گیا ہے۔
- مولوی عبدالکبیر: ان کا سفارتی پاسپورٹ (D0009925) کابل سے 22 مئی 2022 کو جاری کیا گیا تھا۔
- ملا عبدالغنی برادر: ان کے نام پر 16 اکتوبر 2021 کو کابل سے سفارتی پاسپورٹ جاری ہوا، جبکہ ایک اور پاسپورٹ 4 فروری 2025 کی تاریخ کے ساتھ بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
- امیر خان متقی اور ملا فاضل مظلوم: ان رہنماؤں کے سفارتی پاسپورٹس بالترتیب ستمبر اور اکتوبر 2021 میں جاری کیے گئے تھے، جن کی تمام تفصیلات اب عالمی امیگریشن ڈیٹا بیس میں شامل کر دی گئی ہیں۔
سفارتی پاسپورٹس کا پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونا طالبان رہنماؤں کے لیے درج ذیل بڑے نقصانات کا باعث بنے گا:
- سفارتی استثنیٰ کا خاتمہ: اب یہ رہنما اپنے عہدے یا سفارتی پاسپورٹ کا سہارا لے کر کسی ملک کے امیگریشن حکام کو دھوکہ نہیں دے سکیں گے۔ کسی بھی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ان کا پاسپورٹ اسکین ہوتے ہی “ریڈ الرٹ” جاری ہو جائے گا۔
- خفیہ اسفار پر پابندی: ماضی میں بعض رہنما ویزا کی شرائط سے بچنے کے لیے سفارتی دستاویزات استعمال کرتے رہے ہیں، مگر اب ان پاسپورٹس کے نمبرز انٹرپول اور عالمی سیکیورٹی اداروں کے پاس بلیک لسٹڈ کے طور پر موجود ہوں گے۔
- بینکنگ اور مالیاتی رکاوٹیں: عالمی مالیاتی قوانین کے تحت بلیک لسٹڈ پاسپورٹ پر کوئی بھی بینک اکاؤنٹ نہیں کھولا جا سکتا اور نہ ہی کوئی مالیاتی منتقلی ممکن ہے۔ اس سے ان رہنماؤں کے لیے بین الاقوامی فنڈز تک رسائی ناممکن ہو جائے گی۔
- ریاستی شناخت کی تردید: اقوام متحدہ کی جانب سے ان پاسپورٹس کو ‘نام نہاد’ تسلیم کرنا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ عالمی ادارہ طالبان کی جانب سے جاری کردہ ان “سفارتی” دستاویزات کو کوئی قانونی حیثیت نہیں دیتا۔
اقوام متحدہ نے تمام رکن ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان پاسپورٹس کے حامل افراد کو اپنے ملک کی حدود میں داخل ہونے سے روکیں اور ان کے خلاف فوری کارروائی کریں۔