قبلہ اول کی خاموش اذانیں بحال۔مسجد اقصیٰ میں40روزبعد نمازفجرادا۔جذباتی مناظر

28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد بندکردی گئی تھی

               
April 9, 2026 · امت خاص, بام دنیا

 

جمعرات 9 اپریل 2026 کی صبح، مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ(حرم الشریف) کے دروازے نمازیوں کے لیے دوبارہ کھول دیے گئے۔ بیت المقدس کے اسلامی وقف محکمے نے تصدیق کی کہ فجر کے وقت سے مسجد کے صحن نمازیوں کے لیے کھلے ہیں۔ تقریباً 3000نمازیوں نے فجر کی نماز میں شرکت کی۔

 

یہ بندش28 فروری 2026کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد لگائی گئی تھی، جب اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی کے نام پر قدیم شہر اور مقدس مقامات تک رسائی محدود کر دی تھی۔ اس دوران مسجد اقصیٰ سمیت دیگر مقامات پر بھی پابندیاں عائد رہیں۔ یہ 1967ء میں اسرائیلی قبضے کے بعد مسجد اقصیٰ کی سب سے طویل بندش تھی۔

 

اسرائیلی حکام نے بدھ کی شام ہوم فرنٹ کمانڈ کی اپ ڈیٹ شدہ ہدایات کے مطابق مسجد کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ مسجد کے صحنوں میں صفائی اور تیاریاں کی گئیں۔ نماز کے وقت فلسطینیوں کی بڑی تعداد جذبات سے مغلوب کراشک بہاتے رہے، بزرگ افراد احاطے میں ہی سجدہ ریز ہو گئے۔ ترک میڈیا سمیت دیگر ذرائع نے روتے ہوئے نمازیوں کی ویڈیوز شیئر کیں۔

 

اس موقع پر شہر کی گلیوں اور مسجد کی طرف جانے والے راستوں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔