عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا نظام کیسے کام کرتاہےاور اس وقت اصل نرخ کیا ہیں؟
اسپاٹ مارکیٹ اورفیوچرزمارکیٹ کا فرق سمجھناضروری ہے
تصویر: دا کیسپئن پوسٹ
دنیا اس وقت ایک غیر معمولی توانائی بحران کا سامنا کر رہی ہے، مگر تیل کی قیمت کو سمجھنا اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں میں، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں شروع کیں اور ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا، عالمی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 80 لاکھ بیرل تیل مارکیٹ سے کم ہو گیا، جس نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔
لیکن اصل کہانی صرف قیمت بڑھنے کی نہیں، بلکہ دو مختلف قیمتوں کی ہے۔
پہلی ہے اسپاٹ یا فزیکل قیمت]یعنی وہ قیمت جس پر تیل فوری ترسیل (10 سے 30 دن میں) کے لیے خریدا جاتا ہے۔ اس وقت Dated Brent کی شکل میں یہ قیمت تقریباً 144 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ زمین پر حقیقی تیل کی شدید کمی ہے، اور خریدار فوری دستیاب سپلائی کے لیے زیادہ قیمت دینے پر مجبور ہیں۔
دوسری ہے فیوچرز قیمت]یعنی وہ قیمت جس پر تیل مہینوں بعد ڈیلیوری کے لیے آج خریدا جاتا ہے۔ اسے Brent Futures کہا جاتا ہے۔ اس وقت فیوچرز قیمت اسپاٹ سے تقریباً 35 ڈالر کم ہے، یعنی لگ بھگ 105 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان،بعض اوقات 95تا100 ڈالر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ کے بڑے تاجر اور سرمایہ کار یہ توقع کر رہے ہیں کہ موجودہ بحران وقتی ہے اور آنے والے مہینوں میں سپلائی بحال ہو جائے گی۔
عام حالات میں اسپاٹ اور فیوچرز قیمتیں تقریباً برابر ہوتی ہیں، لیکن اس وقت ان دونوں کے درمیان غیر معمولی فرق موجود ہے۔ یہ فرق دراصل دو مختلف حقیقتوں کو ظاہر کرتا ہے: ایک آج کی شدید کمی، اور دوسری کل کی امید۔
امریکی صدر کی غیر یقینی پالیسیوں نے بھی فیوچرز مارکیٹ کو محتاط بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے تاجر طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے میں احتیاط برت رہے ہیں اور بڑی پوزیشن لینے سے گریز کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سرخیوں میں نظر آنے والی قیمتیں اکثر فیوچرز پر مبنی ہوتی ہیں، جو نسبتاً کم ہیں۔ اصل دباؤ اسپاٹ مارکیٹ میں ہے، جہاں حقیقی تیل مہنگا ہو چکا ہے۔
اسی لیے یہ بحران صرف قیمتوں کا نہیں، بلکہ تصور اور حقیقت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کا بھی ہے، ایک ایسا فرق جو عالمی معیشت کے لیے بڑے خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے۔