اسلام آبادٹاکس کے دوسرے مر حلے اور مستقل جنگ بندی معاہدے کی متوقع تاریخیں سامنے آگئیں
رواں ہفتے کے اختتام تک امریکہ، ایران بات چیت دوبارہ شروع ہوناخارج ازامکان ہے
ایران جنگ روکنے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرامرحلہ کب تک شروع ہوسکتاہے، اس حوالے سے اگلے ہفتے میں پیش رفت ممکن دکھائی دیتی ہے۔
منگل کو امریکی صدرٹرمپ نے امکان ظاہر کیا تھاکہ ا گلےدودن میں معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔تاہم پاکستان کے وزیراعظم غیر ملکی دورے پر جارہے ہیں جس کے باعث رواں ہفتے کے اختتام تک امریکہ، ایران بات چیت دوبارہ شروع ہوناخارج ازامکان ہوگیا ہے۔البتہ 27 اپریل سے پہلے پہلے ایران جنگ ختم ہونے کا قوی امکان ہے۔سکائی نیوزکوانٹرویومیںٹرمپ نے کہاکہ شاہ برطانیہ کے امریکی دورے سے پہلے ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ ممکن ہے۔
یادرہے کنگ چارلس کا دورہ امریکہ 27تا 30 اپریل طے ہے۔
اے بی سی نیوز کے نامہ نگارجوناتھن کارل کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سیز فائرکی مدت میں توسیع پر غور نہیں کر رہے۔امریکی صدر نے ایک انٹرویو کے دوران یہ تجویز دی کہ تنازع کا حل قریب ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ اگلےدنوں میں ایک حیران کن منظر دیکھنے والے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنگ دونوں طریقوں سے ختم ہو سکتی ہے لیکن انہوں نے سفارتی کامیابی کو ترجیح دی۔ ٹرمپ نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں ایک معاہدہ بہتر ہے، کیونکہ اس طرح وہ تعمیرنو کر سکیں گے۔
ادھر،ایرانی حکام نے بھی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہے اور اگر نیا دور منعقد ہوتا ہے تو ان کی ترجیح پاکستان ہی ہو گا۔
دریں اثنا، وزیراعظم پاکستان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہورہے ہیں۔بیان کے مطابق اعلیٰ سطح وفد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ اسلام آباد سے جدہ جائے گا۔
وزارت خارجہ کے مطابق شہباز شریف سعودی عرب کے بعد قطر اور ترکی کا دورہ بھی کریں گے۔ تینوں ممالک کے یہ دورے 15 اپریل سے لے کر 18 اپریل تک جاری رہیں گے۔
اس طرح 20اپریل سے شروع ہونے والے ہفتے میں کسی وقت اسلام آباد ٹاکس 2.0 کا انعقاد ہوسکتاہے۔جو ٹرمپ کے بیان کے مطابق شاہ برطانیہ کا دورہ شروع ہونے سے پہلے مکمل ہوجائے گا ، یعنی پیر 20 اپریل سے پیر21 اپریل کے درمیان یہ معاملات انجام پذیر ہوجائیں گے۔