جنگ چھیڑنے والا صدراسلام آباد ٹاکس0.2 کی خبر کا سورس کیوں بنا؟
منگل کوبین الاقوامی میڈیانے بتایاتھاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں
کیٹلن ڈورنبس، تصویر: سوشل میڈیا
اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کے بعد کسی نے کہامذاکراتی عمل ناکام ہوا، تو کوئی اسے بات چیت ادھوری رہنے کا نام دے رہاتھا لیکن منگل بین الاقوامی میڈیانے بتایاکہ ایران جنگ رکوانے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد کے علاوہ جنیوا بھی متوقع مقام ہوسکتاہے۔ تاہم زیادہ تر عالمی ذرائع ابلاغ نے پاکستان کے دارالحکومت میں ہی مزید بات چیت ہونے کی بات کہی۔
پھر معاملات نے ڈرامائی موڑ لیا۔امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی سینئر خاتون صحافی کیٹلن ڈورنبس(Caitlin Doornbos ) جواسلام آباد ٹاکس کی کور یج کے لیے پاکستان آئیں ، واپسی کے لیے پرتول رہی تھیں۔لوٹنے سے پہلے انہوں نے صدرٹرمپ کو کال کی۔وہ معلوم کرناچاہتی تھیں کہ کیا مزید مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہی ہوں گے۔
کیٹلن ڈورنبس نے پوچھاکہ کیا میں فلائٹ بک کرالوں۔ ٹرمپ نے انہیں کہا کہ آپ واپس آجائیں۔لگ بھگ نصف گھنٹے سے کچھ زائد وقت کے بعد ٹرمپ نے واپس کال کی اور کہا کہ اسلام آبادمیں ہی رکیں۔کیوں کہ پیش رفت ہورہی ہے۔کیٹلن کا دعویٰ ہے کہ صدر بالکل واضح تھے کہ میزبانی کا مقام اسلام آبادہی ہوگا۔
ٹرمپ نے اس انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ دوبارہ اسلام آباد جانے کی ایک وجہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں کیونکہ وہ بہت اچھاکام کررہے ہیں، ہم کسی ایسے ملک کیوں جائیں جس کااس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔
امریکی خاتون صحافی نے پاکستانی میڈیاکو بتایا کہ ایسا پہلی بار ہوا کہ ٹرمپ نے انہیں خود کال کی۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ،واشنگٹن میں زیادہ ترصحافیوں کے پاس امریکی صدر کا نمبرہوتاہے اوروہ براہ راست ان سے بات کرسکتے ہیں۔
ادھر امریکی میڈیاکے حوالے سے بتایاگیاہے کہ صدرٹرمپ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے سفارتی سمجھوتے پر آمادہ ہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنگ دونوں طریقوں سے ختم ہو سکتی ہے، لیکن انہوں نے سفارتی کامیابی کو ترجیح دی۔
ٹرمپ نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک معاہدہ بہتر ہے، کیونکہ اس سے وہ تعمیرنو کر سکیں گے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے کہاہے کہ سی این این کے مطابق امریکی وفد کی قیادت دوبارہ نائب صدر جے ڈی وینس کر سکتے ہیں،اور ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس وفد کا حصہ نہیں ہوں گے۔