جنگ بندی کا جامع معاہدہ اسلام آبادٹاکس 2.0 کا ون پوائنٹ ایجنڈا
’’ واحدثالث‘‘ پاکستان کی کوششوں سے فریقین کے درمیان رابطوں کی رفتار تیز ہو گئی
تصویر: سوشل میڈیا
عالمی سفارتی اور میڈیا حلقوں میں یہ تاثر واضح ہوچکاہے کہ اسلام آباد ٹاکس 2.0 کا ون پوائنٹ ایجنڈا ایران جنگ بندی کا جامع معاہد ہ ہے۔’’ واحدثالث‘‘ پاکستان کی کوششوں سے فریقین کے درمیان رابطوں کی رفتار تیز ہو گئی ہے، ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں ممالک ایک جامع معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز اور جاری ہیں، امکان ہے کہ اگلا دورِ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ترجمان کیرولائن لیویٹ کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
عرب میڈیاکا کہناہے کہ امریکی حکام کے مطابق امکان ہے کہ آئندہ ہفتے جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے نئی براہِ راست ملاقات بھی ہو سکتی ہے، البتہ بات چیت براہِ راست اور بالواسطہ دونوں ذرائع سے جاری ہے۔
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست اور غیر براہِ راست رابطے گزشتہ مذاکراتی دور کے اختتام کے بعد سے مسلسل جاری ہیں، جن کا مقصد ایک ایسے جامع معاہدے تک پہنچنا ہے جو تنازع کا خاتمہ کر سکے۔
حکام نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ اصل ہدف دونوں فریقوں کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے تاکہ حتمی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جانب کے مذاکرات کاروں کے درمیان رابطوں کی رفتار حالیہ عرصے میں برقرار رہی ہے، اگرچہ زیادہ تر بات چیت بالواسطہ ذرائع سے ہوئی، تاہم کچھ براہِ راست رابطے بھی کیے گئے۔
امریکی انتظامیہ دونوں فریقوں کو ایک ایسے جامع معاہدے کے قریب لانا چاہتی ہے ،جسے ایک دوسری براہِ راست ملاقات میں حتمی شکل دی جا سکے، اس ملاقات کے جلد یعنی آئندہ ہفتے جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے ہونے کا امکان ہے۔تاہم یہ بھی تسلیم کیا جارہا ہے کہ حتمی تفصیلات اور نفاذ کے طریقۂ کار سے متعلق تکنیکی مذاکرات میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے، ممکن ہے کہ بعد میں جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت پیش آئے، اگرچہ فی الحال یہ ترجیح نہیں ۔
جنگ بندی بدھ 22اپریل کو ختم ہوجائے گی۔
الجزیرہ کے مطابق،پاکستانی حکام تہران کے جوہری پروگرام پر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں “بڑی پیش رفت” کی توقع کر رہے ہیں۔اوریہ جوہری حوالے سے ہے۔
مرکزی نکتہ ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی کو منجمد کرنے کی مدت اور 440 کلو گرام انتہائی افزودہ ذخیرہ ہے۔ دونوں فریق بنیادی طور پر 5 سال بغیر افزودگی سے 20 سال تک افزودگی کے نکتے پر الجھے ہوئے ہیں، اور اس کا حل درمیان میں موجود ہے۔
اس بارے میں بھی بات ہو رہی ہے کہ ایران 440 کلوگرام جوہری افزودہ مواد کا کیا کرے گا۔ اس کے پاس متعدد آپشنز ہیں۔چاہے اسے کسی تیسرے بھیج دیا جائے یا اسے قدرتی شکل میں یورینیم پر لایا جائے یا 3 فیصد تک۔ ذرائع کے مطابق، جوہری معاملے پر بڑی پیش رفت ہوئی ہے، اورسفارتی حلقے توقع کر رہے ہیں کہ پاکستانی تہران کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔