اسلام آباد ٹاکس 2.0 کی کامیابی ناگزیر،معاہدے کی اصل بنیاد طے ہوچکی ۔ سی این این
ٹرمپ کھلے عام ایک معاہدہ چاہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ایران بھی ایسا ہی چاہتا ہے
امریکہ اور ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی خاص انتخاب نہیں۔امریکی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ یہ دوطرفہ ضرورت اور ناگزیرہے۔ بنیادبھی طے ہوچکی ہے۔
سی این این کے مطابق ،امریکہ کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات ،جن کا بہت لمبادورانیہ ایک سوچی سمجھی کوشش لگی جس کا مقصد امریکہ کی سودے بازی کی قوت (لیوریج) بڑھانا تھا۔ اس کے فوراً بعد ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ہو گئی، وائٹ ہاؤس نے شاید یہ اضافی دباؤ پہلے سے ہی ذہن میں رکھا تھا۔
مذاکرات کے دوسرے دور میں کامیابی کا امکان سیاسی ضروریات اور میز پر بیٹھنے والوں کے حالات کودیکھتے ہوئے بڑھتا جاتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام ایک معاہدہ چاہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ایران بھی چاہتا ہے۔ مگروہ خود بڑھتی مہنگائی ، اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ اپنے حامیوں کی طرف سے دبائو کے باعث بھی معاہدے کی بہت شدید ضرورت محسوس کررہے ہیں۔
یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے موقف کی وجہ توجہ کی کمی، یادداشت کے مسائل، یا غیر روایتی سودے بازی کی ذہانت ہےمگر اپنے مخالف کو یہ نہ بتانا کہ آپ اصل میں کیا چاہتے ہیں، اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور یہ الجھن اور مایوسی کا تاثر بھی دے سکتا ہے۔ اور یہ گڑبڑ چاہے جان بوجھ کر ہو یا اتفاقاً واضح کرتی ہے کہ ٹرمپ کو معاہدے کی کتنی شدید ضرورت ہے۔
اگرچہ ایران نے میم وار جیت لی، پورے علاقے میں بے مثال آگ برسائی، اور اپنے کابینہ اور سیکیورٹی کے نظام کی وحشیانہ تباہی برداشت کی پھر بھی اسے معاہدے کی اس سے بھی زیادہ شدید ضرورت ہے۔یہ بات واضح ہے کہ سینٹ کام کے حملے کتنے موثر تھے13ہزارسے زیادہ اہداف پر حملوں کے بعد تہران کی حالت بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے۔39 دن کی بمباری کا نقصان ناقابلِ انکار ہے۔
امریکہ کے ناقدین اس بات پر مذاق اڑاتے ہیں کہ ایک آیت اللہ خمینی کی جگہ دوسرے کو لے آیا گیامگر مجتبیٰ ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آیا، اور نہ یہ یقینی طور پر ثابت ہوا ہے کہ وہ ہوشیار ہے۔ پاسداران انقلاب اپنی تیسری قیادت کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ وہ سخت گیر ہو سکتے ہیں اور خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں، مگر اس سے ان کی حکومت چلانے اور مستقبل کی کسی بھی جنگ کے لیے عسکری طاقت بحال کرنے کی شدید مشکلات ختم نہیں ہو جاتیں۔ دس فٹ لمبا ہونے کا دعویٰ کرنے سے آپ کا اصل قد نہیں بڑھ جاتا۔
ایران کی ظاہری طاقت بقا اوقابلِ ذکر برداشت سے ہے، نہ کہ حقیقی فوجی فتح سے۔ لیکن وہ اس وقت علاقائی طور پر غیر معمولی کمزوری کا شکار ہے۔ اس نے اپنے زیادہ تر خلیجی پڑوسیوں پرحملے کیے جس کی اسے بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ جب آپ کا محلہ آپ سے نفرت کرتا ہو تو ترقی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر کوئی بڑا حادثہ یا سخت گیر عناصر کی غیر منطقی حرکت نہ ہو تو مکمل جنگ کی طرف واپسی کا امکان مذاکراتی سمجھوتے سے کم ہی لگتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ پاکستان میں کئی گھنٹے کی بات چیت کے بعد امریکہ اور ایران کے موقف عجیب حد تک قریب تھے۔ سفارتی بات چیت کا لہجہ اکثر الٹا بولتا ہے۔ ایک اصول یہ ہے کہ اگر بات چیت بری چل رہی ہو تو کامیابی کی بات کرو تاکہ گفتگو جاری رہے؛ جب کامیابی قریب ہو تو لیک کرو کہ بہت بڑے اور ناقابلِ عبور خلیج ہیں جن کو پار کرنا ہے، تاکہ آپ کا مخالف دباؤ محسوس کرے۔مگر دونوں فریق اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ہرمز کی آبنائے دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی نے اس معاملے میں تہران کی سودے بازی کی قوت بہت کم کر دی ہے۔ ایران جانتا ہے کہ اسے چین پر دباؤ کم کرنے کے لیے آزاد یا زیادہ آزاد ٹریفک کی اجازت دینی ہوگی۔ اب تنازع زیادہ تر تفصیلات پر ہے، نہ کہ معاہدے کی اصل بنیاد پر۔
دونوں فریق جوہری افزودگی پر مہلت (موراٹوریم) کے بارے میں متفق ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ یہ مہلت پانچ سال تک رہے۔ امریکہ 20 سال چاہتا ہے، یعنی ایک نسل تک اس مسئلے کو ٹالنا۔ یہاں سادہ ریاضی سے آسان سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔
اس سال اور پچھلے سال بمباری سے ایران کی افزودگی کی صلاحیت بہت کم ہو چکی ہے۔ جو کچھ باقی ہے وہ 400 کلوگرام سے زیادہ 60 فیصد افزودہ یورینیم ہے جسے ٹرمپ نے کہا ہے کہ دھول میں دفن ہے۔ موجودہ امریکی اور اسرائیلی فضائی برتری اور نگرانی کے عروج میں تہران اس ذخیرے کو جلد ہی بم میں تبدیل کرنے کے قابل نہیں سمجھتا۔
مسئلہ زیادہ تر یورینیم پر ایرانی خودمختاری کا ہے، جسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے،اسے روس میں منتقل کرنا، بیچنا، کم افزودگی میں تبدیل کرنا، یا کنٹینرز کی نگرانی کر ناجو امریکہ چاہتا ہے کہ آئی اے ای اے دوبارہ شروع کرے، اور جو جنگ سے پہلے موجود تھی۔
امریکہ،ایران معاہدے سے پہلے کی مشکلات ناقابلِ عبور رکاوٹوں سے زیادہ فخر اور پوزیشننگ کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کی طرح ہیں۔ کوئی بھی فریق ایسا معاہدہ قبول نہیں کر سکتا جسے وہ فتح کے طور پر پیش نہ کر سکے۔ ایران کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی فوجی ڈیٹرینس اب بھی موجود ہے یعنی اس نے اتنی طاقت اور خلل پیدا کیا ہے کہ دوسرا بڑا حملہ کم امکان والا، زیادہ امکان والا نہیں بن گیا۔
ٹرمپ نے پچھلے دو مہینوں میں،پوپ لیو سے لے کر اسرائیل تک تقریباً سب کو ناراض کر دیا ہے۔۔ انہیں اپنی پہلی بڑی منتخب جنگ سے ایک ایسے معاہدے کے ساتھ نکلنا ہے جسے ان کے (سابقہ) حامی 28 فروری سے پہلے کی دنیا سے بہتر قرار دے سکیں۔۔