ایٹمی اور میزائل پروگرام سے زیادہ طاقت کاسرچشمہ۔ کیا ایران آبنائے ہرمزچھوڑدے گا؟
پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے تمام جہازگزر سکتے ہیں۔عہدے دار
ایران جنگ روکنے کے لیے حتمی مذاکرات کا ایجنڈاجامع امن معاہدہ ہے ۔اس حوالے سے امریکی صدرٹرمپ نے کئی دعوے کیے ہیں۔اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ٹرمپ نے آزاد سمندری ٹریفک پر کہاکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کبھی بند نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
میری ٹائم سیکیورٹی کے ماہر الیگزینڈرو ہدیسٹیانو نے کہا کہ ایران کی طرف سے اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ اس طرح کا طویل مدتی عہد کیا گیا ہے۔جنگ کے پچھلے چھ ہفتوں یا اس سے زیادہ کے دوران، ایرانی قیادت نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ آبنائے ہرمز پر اس کے کنٹرول نے اسے اس قسم کی ڈیٹرنس دی جو اس کے جوہری پروگرام، اس کے بیلسٹک میزائلوں، اس کی علاقائی پراکسیوں نے کبھی نہیں دی تھی۔لہذا، میں نہیں سمجھتا کہ ایرانی قیادت نے اس قسم کا عزم غیر واضح اور اٹل طریقے سے کیا ہو گا۔
ایک اور ایرانی عہدے دار نے بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے تمام جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں اور ایرانی فنڈز کی بحالی آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کا حصہ ہے۔عہدے دار نے واضح کیا کہ گزرگاہیں صرف ایران کی متعین کردہ حد تک محدود ہوں گی اور فوجی جہازوں کا داخلہ اب بھی ممنوع ہے۔ امریکی جہازوں کو بھی گزرنے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ وہ ایرانی حکام اور پاسدارانِ انقلاب سے سکیورٹی کلیئرنس لیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران نے امریکہ کی مدد سے تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں، یا ہٹا رہا ہے!لیکن خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق،امریکی بحریہ نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کے ٹریفک سیپریشن اسکیم (TSS) والے علاقے میںبحری بارودی سرنگوں کا خطرہ ابھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا، اس علاقے سے بچنے کی کوشش کریں۔
واضح رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی موجودگی سے خبردار بھی کیا ہے جسے عالمی جہاز رانی کی کمپنیاں سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔
العربیہ کے مطابق ،ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدوں سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔انہوں نے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ایک گھنٹے کے دوران امریکی صدر نے سات بیانات دیے اور ساتوں ہی جھوٹ پر مبنی تھے۔قالیباف نے مزید کہا کہ وہ جھوٹ کے ذریعے جنگ نہیں جیت سکے، یقیناً مذاکرات میں بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔اگر محاصرہ (امریکی بحریہ کی جانب سے) جاری رہا تو آبنائے ہرمز میں آمد و رفت آزاد نہیں رہے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی ایران کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت، تہران کے طے کردہ راستے کے مطابق ہوگی۔
ٹرمپ کے دعووں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران اور امریکہ کے نمائندے یورینیم کی افزودہ مقدار کو ایران سے باہر لے جانے پر کام کریں گے، ایران اپنا جوہری پروگرام غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کے لیے تیار ہے۔ٹرمپ کے مطابق ممکنہ معاہدے کی بیشتر شرائط پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔
اعلیٰ ایرانی عہدے دار کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔
عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایٹمی امور کی تفصیلات پر تا حال کوئی اتفاق نہیں ہو سکا اور اختلافات ختم کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آنے والے دنوں میں کوئی ابتدائی معاہدہ ہو سکتا ہے، جس میں جنگ بندی میں توسیع کا امکان بھی شامل ہے تاکہ پابندیوں کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے معاوضے پر بات چیت کی جا سکے۔
ذریعےکے مطابق ایران عالمی برادری کو اپنے ایٹمی پروگرام کے پرُ امن ہونے کی یقین دہانی کرائے گا، جاری مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی دوسرا دعویٰ حقیقت کے منافی ہو گا۔