ایرانی آخری لمحے پاکستان جانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، فاصلہ بھی زیادہ نہیں۔ برطانوی میڈیا
تہران کا اعلیٰ سطح وفد منگل کی شام اسلام آباد پہنچے گا۔ نجی ٹی وی
اسلام آباد ٹاکس 2.0 کے بارے میں غیر یقینی برقرار ہے تاہم برطانوی نشریاتی ادارے نے کہا ہے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بیان میں ایک اہم نکتہ ان کے ’اب تک‘ کے الفاظ ہیں۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ’اب تک‘ ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔
یہ جملہ اس امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ تہران آخری لمحے میں پاکستان جانے کا فیصلہ کر لے! اور یوں بھی دونوں ملکوں کے درمیان فاصلہ زیادہ نہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے اب بھی مکمل خاموشی ہے کہ وہ اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کی، داؤ پر لگی دوسرے دور کی بات چیت کے لیے جائیں گے یا نہیں۔تاہم گذرتے گھنٹوں کے ساتھ اس بات کا احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ بات چیت ضرور ہو گی۔ ایرانیوں کو اپنا نکتہ نظر ضرور واضح کرنا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’نسبتاً جلدی‘ طے پا جائے گا۔
گلوبل سٹریٹیجی پروجیکٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹروِکینزینو نے الجزیرہ کو بتایا کہ اندرونِ خانہ سب سے بڑی مشترکہ بات یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ کی طرف واپسی نہیں چاہتا۔
پاکستان کے ایک نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ
امریکا سے مذاکرات کے لیے ایران کا اعلیٰ سطح وفد منگل کی شام اسلام آباد پہنچے گا، وفد کی سربراہی اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف کریں گے۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این
کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اسلام آباد میں بدھ کو ہوں گے، پاکستان کی جانب سے “اسلام آباد معاہدہ” ممکن بنانے کی ہرممکن کوششیں کی جارہی ہیں۔
سی این این کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ ایران تمام پہلوؤں پر غور کر رہا ہے اور آگے کیسے بڑھا جائے، اس کا فیصلہ کرے گا۔