جنگ بندی میں توسیع پر ٹرمپ کی آمادگی کے پیچھے کہانی کھل گئی
صدر دوبارہ لڑائی سے کترارہے ہیں۔ صرف معاہدہ چاہتے ہیں۔ امریکی میڈیا
صدرٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع پر کیوں آمادہ ہوئے ، امریکی نشریاتی ادارے نے اس کی کہانی کھول دی ۔ سی این این کے مطابق،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی سہ پہر وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم فیصلے کے لیے سر جوڑ لیے کہ ایران کے ساتھ اب آگے کیا کرنا ہے۔
جنگ بندی کی آخری مدت ختم ہونے والی تھی، اور ایئر فورس ٹو (نائب صدر کا طیارہ) جوائنٹ بیس اینڈریوز کے رن وے پر نائب صدر جے ڈی وینس کی پاکستان روانگی کے لیے تیار کھڑا تھا، جہاں مذاکرات کا اگلا دور طے تھا۔ لیکن انتظامیہ کو ایک الجھن کا سامنا تھا: ایرانیوں کی طرف سے مکمل خاموشی ۔
گزشتہ دنوں میں امریکہ نے ایران کو معاہدے کے اہم نکات کی ایک فہرست بھیجی تھی جن پر وہ مذاکرات کے اگلے دور سے پہلے ایرانیوں کا اتفاق چاہتے تھے۔ لیکن معاملے سے واقف تین حکام کے مطابق، کئی دن گزر جانے کے باوجود امریکہ کو جواب نہیں ملا، جس سے یہ الجھائو پیدا ہوا کہ وینس اور دیگر عہدیداروں کا آمنے سامنے مذاکرات کے لیے پاکستان جانا کتنا سودمند ثابت ہوگا۔
منگل کو جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ڈین کین اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی، تو ایرانیوں کی جانب سے تب تک بھی کچھ نہیں تھا۔ حکام نے پاکستان کے اعلیٰ ثالث، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی گزارش کی تھی کہ وینس کے ایئر فورس ٹو پر سوار ہونے سے پہلے کم از کم کسی قسم کا جواب حاصل کر لیں۔
تاہم، گھنٹوں بعد بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے اعلیٰ مشیروں کا ماننا ہے کہ جواب نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ موجودہ ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات ہیں، اور ان کی یہ رائے جزوی طور پر پاکستانی ثالثوں کی رپورٹس پر مبنی ہے۔ انتظامیہ کو محسوس ہوتا ہے کہ ایرانیوں کے پاس اپنے موقف پر اتفاقِ رائے نہیں ، یا اس بات پر کہ یورینیم کی افزودگی اور افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخیرے (جو امن مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ ہے) پر مذاکرات کاروں کو کتنا اختیار دیا جائے۔
امریکہ کا خیال ہے کہ اس پیچیدگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آیا نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنائی اپنے ماتحتوں کو واضح ہدایات دے رہے ہیں یا انہیں مخصوص ہدایات کے بغیر صرف اندازہ لگانا پڑ رہا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ ان کے (خامنائی) روپوش رہنے کی کوششوں نے ایرانی حکومت کے اندرونی مباحثوں میں خلل ڈالا ہے۔
ان سنگین رکاوٹوں کے باوجود، ایک اہلکار نے کہا کہ اب بھی موقع ہے کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جلد ملیں لیکن یہ کب اور کیسے ہوگا، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
حملے دوبارہ شروع کرنے کے بجائے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے اسے بڑھانے کا انتخاب کیا۔ اس بار انہوں نے کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی۔ ٹرمپ، جنہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ ٹروتھ سوشل میں ایرانی حکومت کے حکام کو ’’شدید طور پر منقسم‘‘قرار دیتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کی، وہ اب بھی سفارتی حل کے لیے بے چین ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسی غیر مقبول جنگ کو دوبارہ شروع کرنے سے کتراتے ہیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ امریکہ پہلے ہی جیت چکا ہے۔تاہم، فی الحال مذاکرات کی ناکامی ان مشکلات کو اجاگر کرتی ہے جن کا ٹرمپ کو سامنا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ان کے متعدد مطالبات پر پورا اترے۔
ایران نے عوامی طور پر اس بات پر اصرار کیا ہے کہ تہران مذاکرات کے نئے دور میں شامل ہونے سے پہلے ٹرمپ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا نکلنے والے جہازوں پر لگی پابندی (بلاکڈ) ختم کریں۔ ٹرمپ نے اس مطالبے کی مخالفت کی ہے۔ منگل کی صبح سی این بی سی (CNBC) پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب تک حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا، ہم آبنائے نہیں کھولیں گے۔
دوپہر کی میٹنگ میں، ٹرمپ اور باقی گروپ نے اس جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا جس کے بارے میں پاکستانی ثالثوں کا کہنا تھا کہ وہ چند گھنٹوں میں ختم ہو جائے گی (اگرچہ ٹرمپ کا خیال تھا کہ یہ بدھ کی شام تک رہے گی)۔ نظریہ کے طور پر، ایسا کرنے سے ایران کو خامنائی کی منظوری کے ساتھ ایک واحد موقف پر جمع ہونے کے لیے مزید وقت مل سکتا ہے، حالانکہ حکام کا کہنا تھا کہ اس کی کوئی ضمانت نہیں ۔ حکام نے بتایا کہ اگر انہیں اشارے ملتے ہیں کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار ہے تو دورے کا انتظام فوری طور پر کیا جا سکتا ہے۔ جب تک آبنائے ہرمز مؤثر طریقے سے بند ہے، امریکہ اور تہران دونوں کو معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑے گا، جس کی وجہ سے خطے کے کچھ حکام کو امید ہے کہ دونوں فریق جلد از جلد حل نکالنے کے لیے متحرک ہوں گے۔
پاکستانی حکام، جنہوں نے منگل کو ایران کو مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی، ساتھ ہی ٹرمپ کو جنگ بندی میں توسیع کی ترغیب بھی دے رہے تھے۔ جیسے ہی اس کی میعاد ختم ہونے کے قریب آئی، ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ “جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے جب تک کہ ان کی تجویز پیش نہ ہو جائے اور بات چیت کسی نہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ جائے۔
امریکی میڈیاکاکہناہے کہ ایرانی حکام اس سے متاثر نظر نہیں آئے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے مشیر مہدی محمدی، جو ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہاکہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ہارنے والا فریق شرائط طے نہیں کر سکتا۔ محاصرے کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں اور اس کا جواب فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ کا یہ اعلان کہ جنگ بندی برقرار رہے گی، ایک ایسے دن کا اختتام تھا جو غیر یقینی صورتحال سے گھرا ہوا تھا، جس کا آغاز ٹرمپ کے اس بیان سے ہوا تھا کہ وہ مستقبل قریب میں ایران پر دوبارہ بمباری کی توقع کر رہے ہیں۔پھر بھی، کسی نئی آخری تاریخ کے بغیر، ٹرمپ کے مشیروں نے نجی طور پر صدر کو خبردار کیا ہے کہ دباؤ کم کرنے سے ایران مذاکرات کو طول دے سکتا ہے۔ کم از کم، مذاکرات کاروں کو امید تھی کہ اس ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک فریم ورک مفاہمت پیدا ہو جائے گی، جس کے بعد آنے والے ہفتوں میں معاہدے کے باریک نکات پر مزید تفصیلی بات چیت ہوگی۔تاہم، اس طرزِ عمل کے مخالفین بھی تھے، جنہوں نے خبردار کیا کہ ایران ان بات چیت کو وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے تاکہ وہ اپنے ان میزائل نظام کو بحال اور دوبارہ فعال کر سکے جو جنگ کے دوران متاثر ہوئے تھے۔
مذاکرات سے واقف لوگوں کے مطابق، کئی اہم نکات بشمول ایران کی مستقبل میں یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت، اس کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا کیا بنے گا اور ملک پر سے کون سی پابندیاں اٹھائی جائیں گی، ابھی تک غیر حل شدہ ہیں۔
معاہدہ طے پانے کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ ہر فریق اپنی شرائط پر کتنا لچکدار ہے۔ ٹرمپ کے لیے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر راضی نہ ہوں جس کا موازنہ اوباما دور کے ایٹمی معاہدے سے کیا جا سکے، جس سے ٹرمپ نے 2018 میں علیحدگی اختیار کی تھی اور مسلسل اسے کمزور قرار دیتے رہے ہیں۔
پچھلے کئی دنوں سے ٹرمپ اپنی مذاکراتی مہارتوں کی بنیاد پر ایک بہتر معاہدہ حاصل کرنے کے بارے میں پراعتماد دکھائی دے رہے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اگر وہ اس وقت صدر ہوتے تو ویتنام کی جنگ بہت جلدی جیت لیتے۔انہوں نے اصرار کیاکہ میرا خیال ہے ہم ایک بہترین معاہدے پر معاملہ ختم کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا مجھے لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ۔ ہم نے ان کی بحریہ ختم کر دی ہے، فضائیہ ختم کر دی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ان کے لیڈروں کو بھی نکال باہر کیا ہے، جس سے ایک لحاظ سے معاملات پیچیدہ ضرور ہوئے ہیں۔
گھنٹوں بعد، جب وہ اسٹیٹ ڈائننگ روم میں کالج کے کھلاڑیوں کو اعزاز دے رہے تھے، ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے دوران غیر معمولی طور پر جنگ پر خاموشی اختیار کی اور ان صحافیوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا جنہوں نے ان کے کمرے سے باہر نکلتے وقت جنگ کے بارے میں سوالات کرنے کی کوشش کی۔