روس میں مسلم علما کو کیوں گرفتار کیا جا رہاہے، متنازع بل کیا ہے؟

مئی میں گرفتاریوں کی لہر، اسلاموفوبیا کے الزامات اور قانون سازی کی بحث

June 12, 2026 · امت خاص, بام دنیا

سابق مفتی وسام بردویل پر شیریمیٹیوو ایئرپورٹ پر ’نافرمانی‘ کا الزام عائد کیا گیا تھا

ماسکو: روس میں مئی کے دوران متعدد مسلمان علما اور کمیونٹی نمائندوں کی گرفتاریوں اور رہائشی عمارتوں میں اجتماعی عبادات پر ممکنہ پابندی کے متنازع بل پر بحث جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں برس مئی میں روسی سکیورٹی فورسز نے متعدد مسلمان علما اور کمیونٹی کے نمائندوں کو حراست میں لیا۔ سرکاری میڈیا میں ان گرفتاریوں کی محدود کوریج کی گئی تاہم آن لائن مختلف بیانیے سامنے آئے۔

انتہا پسند دائیں بازو کے اداروں اور چینلز کے مطابق یہ گرفتاریاں اس مہم کے آغاز کی علامت تھیں، جس کا مقصد کریملن کے حمایت یافتہ ادارے سپریچول بورڈ آف مسلمز (ڈی یو ایم) کو ختم کرنا ہے۔

روس سے باہر کام کرنے والے میڈیا اداروں کے مطابق ان اقدامات کو روس میں اسلاموفوبیا میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض افراد ایک متنازع نئے قانون کو بھی اس رجحان کی مثال قرار دے رہے ہیں، جو رہائشی عمارتوں میں اجتماعی عبادات پر پابندی سے متعلق ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ان گرفتاریوں، مقامی علما کے ردِعمل اور روسی مسلم برادریوں پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مئی 2026 میں روسی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر آٹھ مسلمان علما اور کمیونٹی نمائندوں کو حراست میں لیا، جن میں سے کم از کم ایک کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

ان میں کاریلیہ کے سابق مفتی وسام بردویل بھی شامل تھے۔ سرکاری خبر رساں ادارے طاس کے مطابق انہیں 14 مئی کو شیریمیٹیوو ایئرپورٹ پر پولیس کی نافرمانی کے الزام میں 15 دن قید کی سزا سنائی گئی۔

مقامی خبر رساں ادارے فورٹانگا کے مطابق روسی ایجنسی ایف ایس بی نے 12 مئی کو بردویل کے نائب احمد تانگییف کو بھی حراست میں لیا۔

مقبول روسی نیوز سائٹ لینتا ڈاٹ آر یو کے مطابق جمہوریہ موردوویا کے مفتی رائل آساینوو کو 19 مئی کو رشوت طلب کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، جس میں سپریچول بورڈ آف مسلمز کے ایک اعلیٰ ذریعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔