آزاد کشمیر میں مریم نواز کے بیانیے کی جیت

جمہوریت عوام اور عوامی نمائندوں کے ایک ہی کشتی میں اکٹھے سفر کرنے کا نام ہے۔

August 2, 2026 · قومی

تحریر :۔سیف اعوان

جمہوریت عوام اور عوامی نمائندوں کے ایک ہی کشتی میں اکٹھے سفر کرنے کا نام ہے۔ اس کشتی سے ایک بھی سوار اتر جائے تو وہ جمہوریت نہیں کہلاتی۔ عوام کے رائے کو تسلیم کرنا اور اس کا احترام کرنا حقیقی جمہوریت کہلاتا ہے۔اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنا غیر جمہوری رویہ کہلاتا ہے۔ عوام ہمیشہ اس جماعت کو ووٹ دیتے ہیں جو ان کے مسائل کا حل کرتے ہیں اور ان کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ آزاد کشمیر کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں کشمیری عوام نے مسلم لیگ (ن) کو اس کی کارکردگی کی وجہ سے ووٹ دیا ہے۔

اگر حالیہ عرصے میں دیکھا جائے مریم نواز کی کارکردگی پورے پاکستان میں متاثر کن مثال بن چکی ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیری عوام نے الیکشن کے پہلے مرحلے میں مریم نواز کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اگر مریم نواز کی کارکردگی کا باقی صوبوں کے وزیراعلی سے موازنہ کیا جائے تو مریم نواز اس میں پہلے نمبر پر آتی ہیں۔

مریم نواز نے اپنے کام کی بدولت اپنی پہچان بنائی ہیں اسی لیے آج کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے لوگ بھی یہ برملا کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں مریم نواز جیسی وزیراعلی چاہیے۔ گزشتہ دنوں بلوچستان سے آئے طلبہ نے وزیر تعلیم رانا سکندر اور وزیر کھیل فیصل کھوکھر سے ملاقات کی جس میں بلوچی طلبہ نے کہا کہ ہمیں مریم نواز جیسی وزیراعلی چاہیے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ مریم نواز نے پہلی مرتبہ نوجوان طبقے کو عزت دی ہے۔مریم نواز نے تعلیم کا شعبہ ہو یا کھیلوں کا شعبہ ہو نوجوا نوں کو تمام وہ وسائل فراہم کیے ہیں جو ایک حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی۔

مریم نواز کے وزیراعلی بننے سے قبل بھی پنجاب کے پاس یہ وسائل موجود تھے لیکن اللہ تعالی نے مریم نواز کو نوجوانوں کے لیے وسیلہ بننے کی توفیق دی۔ آج پنجاب میں طلبہ کے پاس جدید لیپ ٹاپ،سکالرشپ،الیکٹرک بائیکس ہیں وہ کھیلوں کے شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں تو یہ مریم نواز کے یوتھ کے لیے ویڑن کا عملی مظاہرہ ہے۔انکے دو نوجوان وزیر فیصل کھوکھر اور رانا سکندر انکے اہم بازو بن کر نوجوانوں کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔ان دونوں نوجوان وزراءنے اپنے اپنے شعبوں میں مثالی منصوبے شروع کرکے نوجوانوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔انہوں نے نوجوانو ں کو آگے بڑھنے اور کھل کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔مریم نواز نے نوجوانوں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ عملی طور پر ان کے لیے کام کر کے دکھایا ہے۔ باتیں کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن عملی طور پر عوام کو ریلیف دینا یقینا ایک عوام دوست حکمران ہی کر سکتا ہے۔

یہاں ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دینے کے وعدے بھی کیے گئے لیکن بعد میں ان کو سیاسی نعرے قرار دے دیا گیا۔مریم نواز نے عوام کو اپنے منصوبوں کے ذریعے روزگار بھی دیا ہے اور وسائل بھی فراہم کیے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال ستھرا پنجاب پروگرام ہے جس کے تحت ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کو نوکریاں دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ آسان کاروبار پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں نوجوانوں کو نئے کاروبار شروع کرنے کے لیے بلا سود قرض دیے گئے ہیں۔یہ ہیں عملی اقدامات جن کی وجہ سے مریم نواز کی نوجوان طبقے میں مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

لمبی لمبی تقریریں کرنے اور فلسفے جھاڑنے بہت آسان ہیں لیکن حقیقت میں اپنی عوام کے لیے کچھ کرنا شاید مشکل کام ہے۔یہ مشکل صرف ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جنہوں ان کا ایجنڈا صرف اقتدار کو انجوائے کرنا اور پروٹوکول لینا ہے اور جو عوام کے حقیقی نمائندے ہوتے ہیں وہ صرف اپنی عوام کو ریلیف دینے میں ہی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ایک طرف مریم نواز کی دو سالہ حکومت ہے جن کے پاس عوام کو اپنی کارکردگی کے طور پر بتانے کے لیے درجنوں منصوبے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل ایک دہائی سے زائد عرصے والے اور دو دہائیوں سے مسلسل حکومتیں کرنے والی جماعتیں ہیں۔

اس کے باوجود بھی ان کے پاس عوام کو بتانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔یہ فرق اپنی اپنی ترجیحات کو واضح کرتا ہے کہ آپ اپنے عوام کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ لوگوں کو سیاسی نعروں اور جذباتی تقریروں سے مرغوب کرنا تو شاید بہت آسان کام ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ڈلیور کرنا ایک مشکل کام ہے جو کوئی نالائق حکمران نہیں کر سکتا۔سیاست خدمت کا دوسرا نام ہے سیاست کو سیاست تک ہی رکھا جائے تو یہ بہتر ہوتا ہے جب سیاست ذاتیات کی طرف چل پڑتی ہے تو مسائل بڑھتے ہیں تلخیاں بھی مزید بڑھتی ہیں۔

 

سیاست برداشت اور تحمل کا بھی نام ہے 12 مہینے آپ ایک جیسی سیاست نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے سیاسی حریفوں کو ایک ہی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں سیاسی گہما گہمی بحث و تکرار ایک جمہوری مشغلہ ہے اس سے جمہوریت کمزور نہیں ہوتی بلکہ مضبوط ہوتی ہے اور ایسے سیاسی مشغلے ہونا جمہوریت کے لیے بھی حوصلہ افزا اور مضبوطی کیے لیے لازم ملزوم ہیں۔ لیکن سیاست کو نفرت اور دشمنی میں تبدیل کرنا بے

وقوفی کی انتہا ہے۔ مریم نواز کا فوکس عوام ہے جبکہ ان کے مد مقابل دو حکومتوں کا فوکس اپنی سیاسی ترجیحات ہیں۔مریم نواز کو بطور وزیراعلی کام کرتے ہوئے دو سال ہوئے ہیں اور آج ہر زبان پر مریم نواز کا نام ہے۔ اس کی وجہ مریم نواز کا طرز حکومت اورکار کردگی ہے۔مریم نواز کو تنقید اور پروپیگنڈے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ دو سال میں انہوں نے ثابت کیا ہے۔ان کی ایک ہی لائن ہے اور وہ عوام کی خدمت کی لائن یے۔اس لائن کو مریم نواز نے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے ایک روشن باب کی طرح اختیار کر لیا ہے۔مریم نواز کا بیانیہ آزاد کشمیر میں جیت چکا ہے۔