نہ کوئی سخت گیر نہ اعتدال پسند ،صرف متحدقوم۔ایرانی قیادت کاٹرمپ کو جواب

ایک خدا، ایک قوم،ایک رہنما،ایک راستہ؛ ایران کی فتح ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے

April 24, 2026 · امت خاص, بام دنیا

 

ایران کی نئی قیادت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید اور انھیں ’ابتری کا شکار،شدید طور پر منقسم‘ قرار دینے کو تہران کے حکام نے سختی سے مستردکردیا۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ،تہران میں، آدھی رات کے فوراً بعد، مقامی ایرانی موبائل نیٹ ورکس کے تمام صارفین کو صدر، پارلیمنٹ کے سپیکر، چیف جسٹس اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک ’متفقہ پیغام موصول ہواجسےٹرمپ کی جانب سے ’تقسیم پیدا کرنے‘ کی کوششوں کا جواب کہا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ ایران میں نہ کوئی سخت گیر ہے اور نہ کوئی اعتدال پسند۔ ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔ ایک قوم، ایک راستہ۔

 

یہ پیغام اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے تھا کہ اعلیٰ سطح پر، خاص طور پر ان بڑے فیصلوں پر جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اہمیت رکھتے ہیں، مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔

 

بہت سے مبصرین بھی اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں کہ جنگ کے کئی ہفتوں اور سینیئر علما اور کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد جو نظام ابھرا ہے، اس میں یہی صورتحال ہے۔اس وقت فیصلہ سازی میں شامل افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ بعض کو زیادہ عملی سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے، کچھ کو زیادہ سخت گیر۔لیکن جوہری پروگرام سے لے کر آبنائے ہرمز تک، اہم معاملات پر ان کی سرخ لکیریں بالکل واضح ہیں۔

 

عرب میڈیانے بتایاہے کہ ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژہ ای نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ متشدد اور اعتدال پسند کی اصطلاحیں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، جو صرف مغربی سیاسی بیانیے میں رائج ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں تمام طبقات اور نظریات بالآخر متحد ہیں اور رہبرِ انقلاب کی ہدایات پر عمل پیرا ہیں۔

 

قالیباف نے ایکس پوسٹ میں کہا ایران میں کوئی انتہا پسند یا اعتدال پسند نہیں، ہم سب ایرانی ہیں،عوام اور ریاست کے درمیان آہنی اتحاد اور سپریم لیڈر کی مکمل اطاعت کے ساتھ ہم جارح کو اس کے کیے پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔

 

صدر مسعود پزشکیان نے بھی حرف بہ حرف یہی الفاظ اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کیے۔اسی طرح وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی باور کرایا ہے کہ میدانِ جنگ اور سفارت کاری ایک ہی جنگ کے دو مکمل طور پر مربوط محاذ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ایرانی پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ متشدد اور اعتدال پسندگروہوں کے درمیان تقسیم ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

 

ٹیگز: