عالمی شپنگ بحران پر سلامتی کونسل اجلاس بے نتیجہ

آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے متعدد اپیلیں سامنے آئیں

               
April 28, 2026 · بام دنیا

اجلاس بڑھتے ہوئے عالمی شپنگ بحران پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہ ہوسکا۔اجلاس کے دوران کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے متعدد اپیلیں سامنے آئیں، جہاں ہزاروں کارگو جہاز اور تقریباً 20 ہزار سمندری کارکن پھنسے ہوئے ہیں۔
اجلاس میں کئی بریفنگز دی گئیں جن میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتنیو گوتریس بھی شامل تھے، جنہوں نے اس بحران کے کمزور ممالک اور عوام پر اثرات کو اجاگر کیا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی آبنائے سے ہوتی ہے۔

بحرین نے اس اجلاس کو طلب کیا، جس کی حمایت درجنوں ممالک نے کی جو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ممالک نے آبنائے کی بندش کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جہازوں پر حملے روکنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

تاہم سلامتی کونسل کوئی عملی اقدام نہ کر سکی۔ اس سے قبل پیش کی گئی ایک قرارداد، جس میں آبنائے کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، کو چین اور روس نے روک دیا، جبکہ ماسکو نے اس صورتحال کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل کی ایران پر “بلااشتعال حملے” کو قرار دیا۔