آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکی معیشت پر دباؤ۔ ایندھن مہنگا
پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ،عوامی ردعمل انتخابات پر اثرانداز ہوسکتا ہے
آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات امریکی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ تیل کی رسد میں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو اس گزرگاہ سے تیل کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، تاہم اس کے باوجود معیشت پر بالواسطہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں واضح اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر عام شہریوں پر روزمرہ زندگی میں نظر آ رہا ہے۔ لوگ جب گاڑیوں میں ایندھن ڈلواتے ہیں یا سپر مارکیٹ سے اشیائے خورونوش خریدتے ہیں تو مہنگائی کا سامنا کرتے ہیں، کیونکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اور عوام میں مہنگائی کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال سیاسی طور پر بھی اہم ہو سکتی ہے، کیونکہ آنے والے وسط مدتی انتخابات میں عوام کا ردعمل صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے اثرانداز ہو سکتا ہے۔