تیل کا ہفتہ وار درآمدی بل 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے ، شہباز شریف

مؤثر حکمت عملی کے باعث ملک میں تیل کی قلت یا لمبی قطاریں نہیں لگیں ، کابینہ اجلاس سے خطاب

               
April 29, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے ایران امریکہ جنگ بندی میں توسیع ہوئی جو تاحال جاری ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ 11 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مذاکراتی عمل شروع ہوا، جس میں پاکستان نے امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔

شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بے پناہ کوششیں کی گئیں، جن میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور محسن نقوی سمیت دیگر اہم اراکین شامل تھے۔ ’انھوں نے دل سے بھرپور کاوشیں کیں تاکہ خطے میں امن قائم ہو۔ فیلڈ مارشل صاحب نے حوصلہ نہیں ہارا اور دن رات اس پر کام ہوتا رہا۔

انھوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیراعظم بھی اپنے ہم منصب سے مسلسل گفتگو کرتے رہے اور اسی کے نتیجے میں جنگ بندی میں توسیع ہوئی، جو اب تک جاری ہے۔ شہباز شریف نے بتایا کہ ’اس دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان آئے اور ان کے ساتھ بھی طویل نشستیں ہوئیں۔ گذشتہ ہفتے میں خود اسلام آباد میں ان سے ملا جس دوران جامع گفتگو ہوئی۔‘

شہباز شریف نے سفارتی کوششوں کے سلسلے میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے کردار کی بھی تعریف کی۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان سے عباس عراقچی عمان گئے، وہاں سے پاکستان واپس آئے اور پھر روس روانہ ہوئے، جہاں سے وہ واپسی اختیار کر چکے ہیں۔

’روس جانے سے پہلے فون پر ان سے میری بات ہوئی، اور انھوں نے مجھے یقین دلایا کہ وزیراعظم کے ساتھ ہماری تفصیلی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور قیادت سے مشاورت کے بعد جلد از جلد جواب دیا جائے گا۔‘

اجلاس کے دوران شہباز شریف نے ملک کی حالیہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے، اور ہفتہ وار تیل کا درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ تاہم مؤثر حکمت عملی کے باعث ملک میں تیل کی قلت یا لمبی قطاریں نہیں لگیں۔

وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہتر مینجمنٹ کے باعث صورتحال قابو میں رہی۔ انھوں نے بتایا کہ توانائی کے تحفظ کے لیے ٹاسک فورس متحرک ہے اور کفایت شعاری کے اقدامات جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بحران نے گذشتہ دو برس کی معاشی بہتری کی کوششوں کو متاثر کیا ہے، تاہم حکومت پُرعزم ہے کہ ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان 3.5 ارب ڈالر کے واجبات ادا کر چکا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں۔

انھوں نے سعودی عرب کے تعاون پر ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انھوں نے متعلقہ کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھی جائے تاکہ جو سبسڈیز دی جا رہی تھیں، انھیں آئندہ بھی برقرار رکھا جا سکے، خصوصاً زراعت اور عوامی ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں۔