ریڈ وارنٹ جاری، نیب کا ملک ریاض کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ

ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زیادہ کی مبینہ کرپشن پر تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں،ڈی جی آپریشنز نیب

               
April 29, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

نیب کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بدھ کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے خلاف ریڈ نوٹس جاری ہونے کی اطلاع دی ہے۔

چیئرمین نیب کے مطابق ریڈ نوٹس ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں کرپشن کے مقدمات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔

ریڈ نوٹس دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کی جانے والی ایک درخواست ہوتی ہے، جس کا مقصد کسی شخص کو تلاش کرنا، اس کی حوالگی یا قانونی کارروائی تک عارضی طور پر اس کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ انٹرپول کے مطابق ریڈ نوٹس کوئی ’بین الاقوامی وارنٹِ گرفتاری‘ نہیں۔

دریں اثنا صحافیوں سے بات چیت کے دوران نیب کے ڈی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زیادہ کی مبینہ کرپشن پر تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ملک ریاض اس وقت متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی ریئل اسٹیٹ کمپنی دبئی ساؤتھ میں رہائشی اور تجارتی تعمیرات پر مشتمل ایک بڑا پروجیکٹ شروع کر چکی ہے جو المکتوم ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے۔

گذشتہ برس جنوری میں بھی نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ پاکستان قانونی چینلز کے ذریعے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات سے رابطے کر رہی ہے۔