براہ راست ایرانی جنگی طاقت پرکاری وار کرنے کے امریکی منصوبے کا انکشاف
سینٹ کام نے لانگ رینج ہائپرسونک ہتھیارمشرق وسطیٰ بھیجنے کی درخواست کردی
ڈارک ایگل۔ تصویر: سوشل میڈیا
امریکی سینٹرل کمانڈ نے’’ڈارک ایگل‘‘(Dark Eagle) ہائپرسونک میزائل مشرق وسطیٰ بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ اس کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
’’بلومبرگ‘‘کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمانڈ ایک ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو زمینی حالات کے تقاضوں کے مطابق ایرانی سرزمین کی گہرائی میں موجود بیلسٹک میزائل لانچروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر اس درخواست کی منظوری دے دی جاتی ہے، تو یہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں امریکی ہائپرسونک میزائل کی پہلی زمینی تعیناتی ہو گی،کیوں کہ اسے اب تک آپریشنل قرارنہیں دیاگیا۔
رپورٹ کے مطابق، اس درخواست میں حوالہ دیاگیا ہے کہ ایران کی طرف سے لانچرز کو درستی سے ہدف کونشانہ بنانے والے امریکی حملوں کی رسائی سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ ہتھیار 300 میل (483 کلومیٹر) سے زیادہ فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ڈارک ایگل، جسے لانگ رینج ہائپرسونک ہتھیار (LRHW) بھی کہا جاتا ہے، کی رینج1725میل (2776 کلومیٹر) سے زیادہ بتائی جاتی ہے، اگرچہ اس کی مکمل صلاحیتوں کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہ نظام آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے سفر کرنے کے قابل ہے اور پرواز کے دوران اپنا راستہ تبدیل کر کے انٹرسیپشن سے بچ سکتا ہے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق ،اس بوسٹ،گلائیڈ میزائل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ فضا کے بالائی حصے میں بلند ہو کر پرواز کرتا ہے۔ ڈارک ایگل ہائپرسونک میزائل کی قیمت 15 ملین ڈالر (تقریباً 11 ملین پاؤنڈ) ہے۔
امریکی سینیٹر جون کینیڈی نے کہا ہے کہ ایران نے گذشتہ سال امریکہ اوراسرائیل کے حملوں کے بعد’’ میزائل فرسٹ ‘ حکمت عملی اپنا لی تھی ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس راستے کو عالمی خطرے میں بدلنے سے روکنے کے لیے بروقت مداخلت کی۔
’’فوکس نیوز‘‘کو انٹرویو کے دوران کینیڈی نے بتایاکہ ہم نے گزشتہ جون میں بمباری کر کے ایران کی ایٹمی تنصیبات کا زیادہ تر حصہ تباہ کر دیا تھا۔ لیکن ہماری انٹیلی جنس نے پتا چلایا کہ اس کے بعد ایران نے اپنا منصوبہ تبدیل کر لیا۔ ان کا نیا منصوبہ یہ تھا کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں میزائل تیار اور جمع کریں کہ وہ امریکہ سے کہہ سکیں: یکھو، ہم اپنا نیوکلیئر پروگرام دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔ اگر تم دوبارہ ہم پر بمباری کرتے ہو تو کر لو۔
کینیڈی نے کہا کہ انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق تہران ایک ایسے منصوبے کی طرف منتقل ہو گیا جو بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی پر منحصر ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسی دفاعی قوت تشکیل دینا ہے جو خطے اور یورپ کو دھمکانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
امریکی سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ امریکیوں کے لیے ان (ایرانیوں) کا ممکنہ پیغام یہ تھا کہ : آپ ہمارے جوہری پروگرام پر دوبارہ بم باری کر سکتے ہیں، لیکن ہم اپنے میزائلوں کے ذخیرے سے مشرق وسطیٰ کو ختم کر دیں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ہم برلن، لندن اور پیرس کو نشانہ بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔ریپبلکن سینیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ انھوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ نے ایران کو عالمی خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی۔