افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر فائرنگ سے 9 افراد شہید ہوئے، ڈپٹی کمشنر

افغان طالبان کی جانب سے عورتوں اور بچوں کو بار بار نشانہ بنانا ان کی بربریت کی نشان دہی کرتا ہے۔

               
April 30, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

باجوڑ: افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر فائرنگ سے 9 افراد شہید ہوئے جن میں 3 عورتیں اور 6 معصوم بچے شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے افغان طالبان کی جانب سے باجوڑ کی سول آبادی پر فائرنگ میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے ناموں کی فہرست جاری کر دی ۔

ڈپٹی کمشنر باجوڑ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مارچ اور اپریل 2026 کے دوران افغانستان سے  ماموند اور سلارزئی   اور دوسرے کئی علاقوں پر مارٹر گولے فائر کیے گئے ۔

ڈپٹی کمشنر کا مکمل ناموں کے ساتھ فہرست کا جاری کرنا ، باجوڑ میں افغان طالبان کے فائر سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔

پاکستان کی بہادر فوج نے اس فائرنگ کے جواب میں پیشہ ورانہ مہارت سے صرف اور صرف افغان طالبان کی فوجی پوسٹوں اور گن پوزیشن کو نشانہ بنایا اور افغانستان کی سول آبادی کو کوئی نقصان پہنچنے نہیں دیا-

افغان طالبان کی جانب سے عورتوں اور بچوں کو بار بار نشانہ بنانا ان کی بربریت کی نشان دہی کرتا ہے- غضب للحق کے تحت پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان کی  بربریت کا مسلسل جواب دیا گیا جس نے نہ صرف افغان طالبان کی  لیڈرشپ کو حواس باختہ کر دیا بلکہ ان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے –

باجوڑ کی مقامی آبادی نے افغان فورسز کی اس بلااشتعال گولہ باری پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خیبر ، کرم اور وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں اس نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تھا ۔