اسرائیل کا غزہ فلوٹیلا کے زیر حراست کارکنوں کو یونان منتقل کرنے کا فیصلہ
فلوٹیلا کے جہازوں سے اسرائیلی بحری جہاز پر منتقل کیے گئے عام شہریوں کو اگلے چند گھنٹوں میں یونانی ساحل پر اتار دیا جائے گا۔اسرائیلی وزیر خارجہ
فوٹو سوشل میڈیا
یروشلم/ایتھنز: اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون سعار نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لیے گئے امدادی بیڑے کے 175 کارکنوں کو اب اسرائیل کے بجائے یونان منتقل کیا جائے گا۔
اسرائیلی بحریہ نے ان کارکنوں کو جزیرہ کریٹ (Crete) کے قریب اس وقت روکا جب وہ “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے حصے کے طور پر غزہ کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔
ابتدائی طور پر اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ تمام زیرِ حراست افراد کو اسرائیلی بندرگاہوں پر لایا جائے گا۔ تاہم یونانی حکومت کے ساتھ طے پانے والے ایک نئے معاہدے کے بعد اس فیصلے کو بدل دیا گیا۔
جدعون سعار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں کہا یونانی حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد فلوٹیلا کے جہازوں سے اسرائیلی بحری جہاز پر منتقل کیے گئے عام شہریوں کو اگلے چند گھنٹوں میں یونانی ساحل پر اتار دیا جائے گا۔