امریکی صدر جنگ کے فیصلے کا وقت بدل سکتے ہیں۔ رپورٹ
ساتھ دن کے بعد جنگ جاری رہنے پر صدر کو کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہے۔امریکی ماہر
امریکی آئینی اور بین الاقوامی قانون کے ماہر اور سابق امریکی ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل بروس فائن نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے جنگی اختیارات سے متعلق قانون وار پاورز ریزولوشن کی قانونی پیچیدگیوں اور آئینی اثرات پر بات کی ہے، جس کے تحت اگر کوئی تنازع 60 دن سے زیادہ جاری رہے تو امریکی صدر کو کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اس وقت موجود تھا جب 1973 میں وار پاورز ریزولوشن منظور ہوا تھا۔ کئی لحاظ سے یہ قانون غیر واضح اور غیر مربوط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قانون امریکی آئین کو “اوور رائیڈ” نہیں کر سکتا، کیونکہ آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ صرف کانگریس ہی جنگ یا امن کی حالت میں تبدیلی کی اجازت دے سکتی ہے، جب تک کہ امریکہ پر حملہ نہ ہوا ہو۔
فیئن نے کہا کہ ایران نے امریکہ پر حملہ نہیں کیا، اس لیے یہ جنگ ایران کے خلاف “جارحیت پر مبنی مجرمانہ جنگ” ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “وار پاورز ریزولوشن میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ صدر 60 دن تک جنگ چلا سکتا ہے اور اگر کانگریس اجازت نہ دے تو جنگ ختم ہو جائے گی۔”
تاہم انہوں نے قانون میں موجود خامیوں سے بھی خبردار کیا۔
ان کے مطابق صدر یہ کہہ سکتا ہے کہ “ہم نے 37 منٹ سے بمباری نہیں کی، اس لیے جنگ ختم ہو گئی” اور پھر 60 دن کا نیا دور شروع کر دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون میں کہیں واضح نہیں کہ وقت کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے۔