آبنائے ہرمز کی بند سےتجارت کے لیے متبادل زمینی راستے کھل گئے
سمندری راستے سے خلیجی ساحلی ممالک تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تجارتی راستوں میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے اور اب کنٹینر جہازوں کی آمد و رفت کے بجائے زمینی راستوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔
لاجسٹکس اور بحری ذرائع کے مطابق اس ناکہ بندی نے جہاز مالکان کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ خوراک اور تیار شدہ اشیاء کی ترسیل کے لیے متبادل زمینی راہداریوں کا سہارا لیں، کیونکہ سمندری راستے سے خلیجی ساحلی ممالک تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی بندرگاہ جدہ پورٹ بحیرہ احمر پر ایک نئے علاقائی مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے، جہاں بڑی شپنگ کمپنیوں جیسے ایم ایس سی، سی ایم اے، سی جی ایم میرسک اور کوسکو کے جہاز نہر سویز کے ذریعے پہنچ رہے ہیں۔
بعد ازاں سامان کو ٹرکوں کے ذریعے صحرائی شاہراہوں سے شارجہ بحرین اور کویت جیسے مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے، جہاں گزشتہ دو ماہ سے سمندری راستہ معطل ہے۔
فریٹ کمپنی اوورسی کے شریک بانی آرتھر باریلاس دے تھے نے کہا کہ جدہ بندرگاہ اس قدر درآمدی دباؤ سنبھالنے کے لیے تیار نہیں، جس کے باعث وہاں رش بڑھ رہا ہے۔