کیا مشرق وسطیٰ کا بحران دنیا میں کسی کے لیے فائدہ مندبھی ہے؟
کچھ ممالک نسبتاً اس کے اثرات کو بہتر طور پر سنبھالنے کی پوزیشن میں ہیں
ایران کی جنگ نے پوری دنیاکو بدترین بحران میں دھکیل دیاہے لیکن کچھ فوائد اور مثبت اثرات بھی دیکھے جارہے ہیں۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سینئر فیلو میلانی سِسن نے بتایاکہ ایران کی جنگ سے کوئی حقیقی فاتح نہیں نکلا، البتہ کچھ ممالک نسبتاً اس کے اثرات کو بہتر طور پر سنبھالنے کی پوزیشن میں ہیں۔
چین، دنیا کا سب سے بڑا توانائی درآمد کنندہ، مشرق وسطیٰ کے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ اس تنازع سے مضبوط پوزیشن میں نکل سکتا ہے۔اس نے تیل کے بحران کو نسبتاً اچھی طرح برداشت کیا ہے۔ اس نے پچھلے دس سال میں تیل کے بڑے ذخائر بنائے، درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنایا اور بجلی کی طرف منتقلی تیز کی، جو گھریلو توانائی کے ذرائع کوئلہ اور قابل تجدید توانائی سے چلتی ہے۔ یہ اسے بلند تیل کی قیمتوں کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد دے رہا ہے۔ مستقبل میں یہ چین کے سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کی طلب میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اس کے علاوہ سفارتی زاویہ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق چین اس جنگ کی وجہ سے امریکہ کی ساکھ کوپہنچنے والے نقصان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
تیل کی آسمان چھوتی قیمتوں کی وجہ سے دنیا بھر میںزندگی مہنگی ہو رہی ہے، مگر تیل اور قدرتی گیس کی کمپنیاں بہت بڑا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔شیورون، شیل، بی پی، کونوکو فلیپس، ایکسون اور ٹوٹل انرجیز سب بلند تیل کی قیمتوں کی وجہ سے بہت بڑے منافع کما رہی ہیں۔ آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق ان چھ کمپنیوں کے اس سال 94 ارب ڈالر منافع کی توقع ہے۔مگر ان بلند منافعوں کی وجہ سے متعدد ممالک میں ان کمپنیوں پر ونڈ فال ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یہ بحران فوسل فیول کو مزید ناپسندیدہ بنا رہا ہے اور قابل تجدید توانائی کو زیادہ پرکشش بنا رہا ہے، جو فوسل فیولز کے زوال کو تیز کر سکتا ہے۔ تیل کا عالمی بحران متعدد ممالک میں صاف توانائی کی طرف منتقلی کی خواہش کو مزید بڑھا رہا ہے۔یورپی کمیشن نےفوسل فیول قیمتوں کے دھچکوںسے عوام کو بچانے اور گھریلو قابل تجدید توانائی کو تیز کرنے کی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا۔مگر ایک احتیاط بھی ہے ،ایران کا بحران قابل تجدید توانائی کے مواد (جیسے ایلومینیئم) کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور سپلائی چینز کو متاثر کر رہا ہے۔ اس سے قابل تجدید ٹیکنالوجی مہنگی ہو سکتی ہے۔
روسی معیشت کو بھی اس تنازع سے فائدہ ہو رہا ہے۔ بلند تیل اور کھادوں کی قیمتوں کی وجہ سے کریملن کو اضافی آمدنی ہو رہی ہے۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے بتایا کہ
روس کی توانائی آمدنی مارچ میں تقریباً دگنی ہو گئی۔ تاہم یوکرین کے حملوں نے روس کی تیل بیچنے کی صلاحیت محدود کر دی ہے۔
کسی بھی جنگ کی طرح اسلحہ ساز کمپنیاں بھی بڑا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔