جنگ روکنے کیلئے ایرانی منصوبے کی تفصیلات، تہران بڑی رعایتوں پر آمادہ
جو ری پروگرام 15 سال تک روکنے اور اس کے بعد بھی یورینیم افزودگی کم کرنے کی پیشکش
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل چھٹانے اور ایک طویل المدتی امن کی خاطر ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ممکنہ امن معاہدے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
اس جامع منصوبے کو تین اہم مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں جنگ کا خاتمہ، جوہری تنازع کا حل اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
پہلا مرحلہ: 30 دن میں جنگ کا خاتمہ اور فوجی انخلا
منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت 30 دنوں کے اندر پورے خطے میں جاری جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران اور امریکہ کے درمیان ایک باقاعدہ “عدم جارحیت کا معاہدہ” (Non-aggression Pact) طے پائے گا، جس میں ایران کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔
معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولا جائے گا اور ایران امریکی تعاون سے وہاں موجود بارودی سرنگیں صاف کرے گا۔ بدلے میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور امریکہ ایران کے گرد و نواح سے اپنی افواج نکال کر فوجی اجتماع ختم کر دے گا۔
دوسرا مرحلہ: جوہری پروگرام پر 15 سالہ قدغن اور اثاثوں کی واپسی
دوسرے مرحلے کا محور ایران کا جوہری پروگرام اور معاشی پابندیاں ہیں۔ تجویز کے مطابق
ایران 15 سال تک یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر منجمد (Freeze) کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
15 سال گزرنے کے بعد ایران کو صرف 3.6% تک افزودگی کی اجازت ہوگی، جبکہ اس کا کوئی اضافی ذخیرہ رکھنے پر پابندی ہوگی۔
ایران کے موجودہ یورینیم ذخائر کو یا تو پتلا کیا جائے گا یا بیرونِ ملک منتقل کیا جائے گا۔
بدلے میں بین الاقوامی برادری ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کرنے کا واضح میکانزم بنائے گی اور ایران کے مختلف ممالک میں منجمد اثاثے مرحلہ وار رہا کیے جائیں گے۔
تیسرا مرحلہ: علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک مذاکرات
آخری مرحلے میں ایران عرب ممالک اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک مستحکم سکیورٹی فریم ورک بنانے کے لیے “اسٹریٹجک مذاکرات” کا آغاز کرے گا۔ اس مرحلے کا مقصد ایک ایسا پائیدار نظام وضع کرنا ہے جس سے مستقبل میں کسی بھی مسلح تصادم کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عملدرآمد ہوتا ہے تو یہ دہائیوں سے جاری پاک امریکہ اور ایران کشیدگی کے خاتمے کی جانب سب سے بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔