5 گنابڑےدشمن کوشکست ہوئی،معرکہ حق نے جنگ لڑنے کی جہت کوبدل دیا،ترجمان پاک فوج

صرف 15 فی صد طاقت استعمال کرکے 5 گنابڑے دشمن کوشکست دی ۔ پریس کانفرنس

May 7, 2026 · قومی

ڈی جی آئی ایس پی آر۔فائل فوٹو

 

ترجمان پاک فوج ، ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا بیانیہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔پہلگام واقعے کو ایک سال گزرنے کے باوجود کئی اہم سوالات آج بھی عالمی برادری، پاکستانی عوام اور خود بھارتی عوام کے سامنے موجود ہیں۔معرکہ حق نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال پہلے افواجِ پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان ہمیشہ قوم کی توقعات پر پوری اتری ہیں اور اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان نے جنگ کی جہت کو بدل دیا۔ یہ صرف لائن آف کنٹرول کی جنگ نہیں تھی بلکہ زمین، فضا، سائبر، سمندر اور ذہنوں پر مشتمل ایک کثیرالجہتی جنگ تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں جو کچھ ہوا وہ پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ بھارت دہائیوں سے یہ جھوٹا بیانیہ بنا رہا تھا کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے، تاہم اب بھارت کا دہشت گردی کا ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں جو آپ نے دیکھا ہے وہ ہماری مجموعی پاور پوٹینشنل کا 10 سے 15 فیصد ہے، 14 اگست کو عظیم الشان پریڈ ہوگی، پاور پوٹیشنل کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے، مقصد یہ ہے کہ وہ بعد میں یہ نہ کہیں کہ بتایا نہیں تھا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق ،بھارت کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کرو، روایتی یا غیر روایتی، ہم کھڑے ہیں، بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں میں ہے، ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، اگر کسی کو شک ہے تو اس کی ایک قسط ہم دکھا چکے ہیں، پاکستان کی سلامتی اور دفاع پر ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کون لوگ تھے جنہوں نے یہ کرایا، بھارت بتائے کس دہشت گرد کیمپ کو نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی انٹیلی جنس اتنی ہی مؤثر اور باخبر تھی تو سینکڑوں کلومیٹر اندر آنے والے افراد کے بارے میں پہلے سے معلومات کیوں نہ مل سکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت بھارتی ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج بھی بین الاقوامی برادری یہی سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ بھارت کے باشعور حلقے بھی ان سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔