غزہ غذائی قلت شدت اختیار کر گئی خواتین بچے شدید متاثر
خوراک کی کمی اور امدادی پابندیوں سے صورتحال سنگین ہو رہی ہے، بین الاقوامی تنظیم
غزہ میں قحط اور بڑے پیمانے پر بھوک کے بڑھتے ہوئے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔
بین الاقوامی طبی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق غزہ کی پٹی میں غذائی قلت کا سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے، جو جنگ کے باعث عائد پابندیوں اور امدادی سامان کی کمی سے مزید بڑھ گیا ہے۔
تنظیم کے مطابق اس بحران کا سب سے زیادہ اثر حاملہ خواتین، نومولود بچوں اور چھوٹے بچوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کے زیرِ انتظام کلینکس کے اعداد و شمار کے مطابق قبل از وقت پیدائش، اسقاط حمل، کم وزن بچوں کی پیدائش اور شیر خوار بچوں کی اموات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بچوں میں شدید غذائی قلت کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔
غزہ میں کام کرنے والے طبی عملے کے مطابق یہ صورتحال روزانہ کی بنیاد پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں متاثرہ مائیں مسلسل خوراک کی کمی اور حالات کی سنگینی بیان کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجہ خوراک اور امدادی سامان پر عائد پابندیاں ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے ہیں، تاہم امدادی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔ طے شدہ معاہدے کے مطابق روزانہ 600 ٹرک امدادی سامان کے غزہ میں داخلے کی اجازت ہونی چاہیے تھی، مگر حقیقت میں صرف تقریباً 150 ٹرک ہی داخل ہو رہے ہیں، جس کے باعث شہری خوراک اور بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔