بریکنگ معرکۂ حق نے دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ فیلڈمارشل عاصم منیر
آج کا دن سب کے لیے قابلِ فخر، دشمن کی جارحیت کا قومی وحدت و جرأت سے جواب دیا
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آج کا دن ہم سب کے لیے قابل فخر ہے، دشمن کی جارحیت کا قومی وحدت و جرأت سے جواب دیا گیا، پاکستان نے ہمیشہ دشمن کے اندازوں کو ناکام بنایا۔معرکہ حق صرف 2 ممالک کی جنگ نہ تھی بلکہ یہ 2 نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا
آپریشن بنیان المرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا آج کا دن ہم سب کے لیے باعث افتخار ہے، ایک سال قبل ہمیں بے مثال کامیابی ملی، دشمن نے ہمارے قومی عزم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس کا ہماری فورسز نے منہ توڑ جواب دیا۔
ان کا کہنا تھا معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانے والی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا، 6 اور7 مئی کی درمیانی شب سے 10مئی تک دشمن نے ہمارے قومی وقار کو آزمانے کی ناکام کوشش کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ کوئی اچانک پیش آنے والا معرکہ نہ تھا، ماضی میں بھی دشمن نے پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگانے کی کوشش کی لیکن معرکہ حق میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا، پاکستان کے دشمن کو ہر بار شکست سے دوچار کیا گیا۔
چیف آف آرمڈ فورسز کا کہنا تھا ہندوستان کا خواب ہے وہ پاکستان کوعسکری جارحیت اورسفارتی تنہائی کانشانہ بنائے، ہندوستان کا خواب ہے وہ پاکستان کو تنہائی کا نشانہ بناکر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، دشمن کا یہ خواب اس کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے، ہندوستان کا یہ خواب پاکستان کبھی پورا نہیں ہونے دے گا، دشمن بھول چکا تھا افواج پاکستان نہ پہلے طاقت کے غلبے سے مرغوب ہوئے نہ کبھی ہوں گے۔
فیلڈ مارشل نے معرکۂ حق میں شہید ہونے والی نہتی عورتوں، اور معصوم بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شہدا کی قربانی کو امانت، اپنی طاقت کو ذمہ داری سمجھتے ہیں، اپنی کامیابی کو خدائے بزرگ برتر کا احسان سمجھتے ہیں، عوام اور قومی قیادت کا پیغام ہے ملکی خودمختاری، سرحدی سالمیت، قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں، یہ معرکہ صرف میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ ملکی قومی سطح پر تمام شعبہ جات میں جیتا گیا۔
ان کا کہنا تھا پوری قوم دفاع وطن میں سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی، جب بھارتی میزائل گرے تو عوام کا جم غفیر ملک کے دفاع کے لیے امڈ آیا۔
چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا تھا ہمارے شیر دل شاہینوں نے دورحاضر کی سب سے طویل نتیجہ خیزجنگ کی مثال قائم کی، شاہینوں نے دشمن کے جدید جنگی جہاز زمین بوس کیے ،تنصیبات کو تباہ کیا، شاہینوں نے دشمن کے طیاروں کو زمین تک محدود کر دیا، ہندوستان کو اس جنگ کے نتیجے میں شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، اس نقصان کی قیمت دشمن آنے والے وقتوں تک چکاتا رہے گا۔
فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ روایتی جنگ کو ناممکن تصور کرتے ہوئے بھارت ایک بار پھر دہشت گردی کی گھناونی روش کا سہارا لے رہا ہے، افغانستان اپنی سر زمین پر دہشت گردی کے مراکز اور آماج گاہوں کا مکمل خاتمہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے غیور عوام ، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام باہمت اور غیور اہلکاروں کو سلام پیش کرتا ہوں،ہم ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ہماری طاقت ہے اور ہم قوم کی قوت ہیں، پاکستان کا مستقل انشاء اللہ بہت روشن اور تابناک ہے، جب حق اور باطل مقابل ہوں تو فتح ہمیشہ حق کا مقدر بنتی ہے، پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیر تھا اور انشاءاللہ آنے والے وقتوں تک ناقابلِ تسخیر رہے گا۔
قبل ازیں مسلح افواج کے سربراہان نے باری باری جی ایچ کیو میں یادگار شہداء پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ یادگار شہدا پر حاضری کے بعد مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو سلامی پیش کی۔