ٹرمپ پر ایران سے متعلق اہم فیصلہ کرنے کا دباؤ بڑھ گیا

ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار موجودہ سطح پر رکھا جائے یا اسے مزید وسعت دی جائے۔

July 30, 2026 · بام دنیا

ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں واشنگٹن کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان آئندہ حکمتِ عملی پر مختلف آراء سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے بعض اعلیٰ حکام اس بات پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار موجودہ سطح پر رکھا جائے یا اسے مزید وسعت دی جائے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ایران کے خلاف مزید وسیع فضائی کارروائیوں کے حامی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کے مجوزہ منصوبے میں ایران کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کئی روز تک جاری رہنے والی کارروائیوں کی تجویز شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ نسبتاً محتاط حکمتِ عملی کو ترجیح دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کا مؤقف ہے کہ امریکا کو اپنے فضائی دفاعی نظام، انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر اہم دفاعی وسائل کو مستقبل کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر محفوظ رکھنا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق ان مختلف آراء کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے یا ان میں مزید اضافہ کیا جائے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ امریکی افواج اور مفادات کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔

دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق واشنگٹن میں جاری مشاورت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا خطے میں اپنی آئندہ حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لے رہا ہے، جبکہ آنے والے فیصلے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں سامنے آنے والے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔