11 مئی  یوم شہادت مطیع الرحمٰن نظامی شہید

آج 11 مئی ہے اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر مولانا مطیع الرحمن نظامی شہید کا یوم شہادت ۔

May 11, 2026 · کالم

11 مئی  یوم شہادت  مطیع الرحمٰن نظامی شہید

ڈاکٹر ظفر اقبال

آج 11 مئی ہے اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر مولانا مطیع الرحمن نظامی شہید کا یوم شہادت ۔

چند روز ان کے صاحبزادے جو فنانس کے پروفیسر ہیں نے ایک بنگلہ  نغمہ شئیر کیا جو ایک عجیب تاثیر رکھتا ہے

“Sonar Pakhira Eke Eke Ure Jay”

সোনার পাখিরা একে একে উড়ে যায়,
ভেঙে ভেঙে হৃদয়ের সকল বাঁধন।
নেকড়ের উল্লাসে কাঁপে জনপদ,
বঞ্চিত জনতার হৃদয়ে কাঁদন।

ایک مقبول اسلامی  نشید ہے جو بنگلہ دیش کے کئی صداکاروں کی آواز میں ہے

The golden birds fly away one by one, breaking all the bonds of the heart. The town trembles with the joy of the wolves, the hearts of the deprived people cry.

سنہرے  پرندے دل کے سارے بندھن توڑ کر ایک ایک کر کے اڑتے  جاتے ہیں۔ بستی بھیڑیوں کی خوشی سے کانپتی ہے، محروموں کے دل روتے ہیں۔۔ پرندوں سے مراد مومنین، یا اللہ کے پیارے بندے ہیں، جو اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔

 

مطیع الرحمن نظامیؒ  کی پیدائش  31 مارچ 1943 کو ضلع سنبھیا کے گاؤں مونبھ پور میں ہوئی۔۔ انھوں نے اپنی ثانوی تعلیم ایک مدرسے میں مکمل کی۔ 1963 میں ، انھوں نے ڈھاکہ کے مدرسہ عالیہ سے اسلامی فقہ میں ڈگری حاصل کی اور  ڈھاکہ یونیورسٹی سے  1967 میں گریجوئیشن کیا۔
مطیع الرحمٰن نظامی متحدہ پاکستان کے آخری طالب علم رہنما تھے جو ملک کے دونوں حصوں میں قائم واحد طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ  تھے۔
مطیع الرحمٰن نظامی کو بنگلی دیش بننے کے بعد طویل عرصہ قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنا پڑا جس کا نہوں نے نے صبر و استقامت کے ساتھ سامنا کیا۔
بنگلہ دیش میں وہ عوام کی بڑی تعداد کی حمایت سے کئی بار پارلیمنٹ میں  پہنچے۔

1991 میں ، وہ رکن پارلیمنٹ کے طور پر منتخب ہوئے ، اور پبنہ1 کے حلقہ انتخاب کے لیے جماعت اسلامی کی نمائندگی کی۔ وہ 1994 تک جماعت اسلامی کے پارلیمانی پارٹی کے رہنما رہے۔

طیع الرحمن نظامی نے 2001 میں پروفیسرغلام اعظم کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے مرکزی امیر کا عہدہ سنبھالا ۔ اسی سال ، بی این پی سمیت چار جماعتی اتحاد کے حصے کے طور پر اپنی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ، نظامی نے پبنا 1 میں پارلیمنٹ کی ایک نشست حاصل کی ، جس نے 57.68 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ 2001 سے 2003 تک ، انھوں نے وزیر زراعت ، پھر 2003 سے 2006 تک وزیر صنعت کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔

دسمبر 2008 کے عام انتخابات میں نظامی کو عوامی لیگی نئے طوفان سے  شکست ہوئی اس میں بھی انہیں  45.6٪ ووٹ ملے۔

اس کے بعد ایک ابتلاء کا دردناک  دور شروع ہوا

شیخ حسینہ کے دور میں جب نریندر مودی اور ان کی پاکستان اور امت دشمن پالیسی کے پھیلاؤ میں بنگلہ دیش کے معاشرے میں نفوذ کے راستے میں رکاوٹوں کو ہٹانے کی مودی حسینہ مہم شروع ہوئی تو جماعت اسلامی پر ایک بار پھر پچاس سال پرانے الزامات کے تحت پوری لیڈر شپ کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ۔ تاکہ عوامی رجوع کو بریک لگائی جا سکے۔ پاکستان کی حمایت کے مقدمات بنائے گئے اور ایک نام نہاد جعلی  عدالتی ٹریبونل بنایا گیا جسے فیصلے نریندر مودی کی نمائیندہ  پارٹی لکھواتی اور اس پر “شواہد” بنائے جاتے اور اسے عدالتی بنانے کی کوشش کی جاتی۔
بین الاقوامی غیر جانبدار حلقے تو بات سمجھتے تھے لیکن غیر جانبدار حلقوں کی تعداد کم ہی ہوتی ہے۔  ادھر نریندر مودی کا طوطی  بھی بول رہا تھا اور مقبولیت اور بڑی مارکیٹ کا جادو مغرب اور مشرق وسطیٰ میں بھی  چڑھ چڑھ کر  کر بول رہا تھا ۔ لہذا یہ انٹرنیشنل ٹریبیونلز انٹرنیشنل نظروں کے کم نظر اور ایک آنکھ کے دجالی نظام کا شکار ہوگئے جو صرف وہی دکھاتا ہے جو رائج کروانا مقصود ہوتا ہے۔
لیکن شرار بولہبی جتنا بھی زہریلا ہو وہ چراغِ مصطفی جیسی ابدیت کے سامنے بار بار اپنی ہیچ حیثیت کھلتے دیکھتا اور نئی شکل میں آتا رہتا ہے۔
سو وہی ہوا اور مقبول یت کے آسمان سے حسینہ واجد ایسی گری کہ نریندر مودی کے ہاں پناہ کے سوا چارہ نہ رہا۔

ان انٹرنیشنل ٹریبونلز نے جماعت اسلامی کے جن رہنماؤں کو عمر قید اور پھانسیوں کے لئے چنا ، امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمٰن نظامی اس کے اصل شکار تھے۔
نومبر 2011ء میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت بنگلہ دیش پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس کیس میں شفافیت نہیں نیز گواہان اور وکلا کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔

انہیں 11 مئی 2016ء کی درمیانی رات ڈھاکہ سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔
ان کی اہلیہ محترمہ شمس النہار اور خاندان کے دیگر افراد ان سے ملے تو انہوں نے فرمایا: میری شہادت مجھے نظر آرہی ہے اور یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑا اعزاز ہے، جو وہ اپنے کسی بندے کو عطا فرماتا ہے۔ میری شہادت پر کسی کو رونے دھونے کی ضرورت نہیں۔ مَیں سب کو صبر کی تلقین کرتا ہوں۔ پھر قرآن سے آیت پڑھ کر فرمایا۔۔۔ واصبروا ان اللّٰہ مع الصابرین۔۔۔میرا دل بالکل مطمئن ہے۔ مَیں اپنے تمام چاہنے والوں کو یہ پیغام دیناچاہتا ہوں کہ وہ اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھیں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میرے وطن عزیز بنگلہ دیش میں اسلامی نظام کے لئے فضا ہموار فرما دے۔قاسم پور جیل سے 7؍مئی کو انتہائی سخت سیکیورٹی کے ساتھ نظامی صاحب کو ڈھاکہ سینٹرل جیل میں منتقل کیا گیا۔ جیل کی طرف جانے والے تمام راستے مکمل طور پر بند تھے۔10؍مئی کی شام ایک مجسٹریٹ نظامی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ صدر سے رحم کی درخواست کرناچاہیں تو آپ کے لئے اس کا موقع ہے۔ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ مَیں اللہ ہی سے رحم کا طلب گار ہوں، کسی مخلوق کے سامنے نہ کبھی جھکا اور نہ اس کا تصور کرسکتا ہوں۔ یہ جواب سن کر مجسٹریٹ چلا گیا۔ اگلی رات تقریباً آٹھ، نو بجے کے درمیان ان سے اہل خاندان کی آخری ملاقات کروائی گئی۔ اس موقع پر بھی نظامی صاحب بالکل مطمئن اور نہایت پُرعزم تھے۔ رات مقامی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ اور بارہ بجے کے درمیان نظامی صاحب کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اسی شام جلاد کو جیل میں لایا گیا تھا۔ مسافر اپنی منزل سے ہمکنار ہوگیا اور اپنے پیچھے عزیمت اور روشنی کے مینار چھوڑ گیا۔

شہید کے فرزند ڈاکٹر خالد لکھتے ہیں: 10؍مئی 2016ء کو مغرب کی نماز کا وقت ہوا چاہتا تھا کہ اچانک جیل حکام نے نظامی صاحب کے ذاتی معاون مٹھو کو پیغام دیا کہ مولانا کا خاندان ان سے ملاقات کے لئے جیل آئے۔ جب اس نے پوچھا، کیا یہ آخری ملاقات ہے؟ تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ مَیں نے بے یقینی کی کیفیت جیل جانے کے لئے تیاری کی اور تین کاروں میں خاندان کے چھبیس افراد سنٹرل جیل پہنچے۔ وہاں صحافیوں اور میڈیا کے لوگوں کی بھیڑ لگی تھی، مگر ہمیں کسی سے بات کرنے کا یارا تھا، نہ اجازت۔ سیکیورٹی کا بہت بڑا عملہ وہاں موجود تھا، جنہوں نے ہم میں سے ہر ایک کو بہت باریک بینی سے سیکیورٹی سے گزارا۔ وہاں ہمیں وہ خط ملا، جس میں جیل حکام نے بتایا تھا کہ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ تمام حفاظتی امور کی چیکنگ کے بعد بالآخر ہم جیل کے اندر پہنچے، جہاں کال کوٹھڑی کے اندر ہم نے اپنے والد محترم کو قبلہ رخ کھڑے نماز میں مصروف پایا۔ وہ ایک سبز رنگ کی جانماز پر کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی پشت ہماری طرف تھی۔ آٹھ بائی آٹھ فٹ کا یہ بلاک کااُن آخری کمرہ تھا جس کا نمبر آٹھ تھا۔ اس میں کوئی کھڑکی نہیں تھی۔ آہنی دروازے کی سلاخوں کے درمیان سے ہمیں اپنے والد نظر آرہے تھے۔ کمرے کے اندر روشنی نہیں تھی، باہر کی روشنی کمرے میں پہنچ رہی تھی۔ ابوجان اپنی نماز کے دوران عربی میں دعائیں پڑھ رہے تھے جو صاف سمجھ آرہی تھیں۔ ان کی آواز نہ بہت بلند تھی، نہ دھیمی۔ ہر دعا میں ایک فقرہ بولنے کے بعد اگلے فقرے سے پہلے ذرا سا وقفہ کرتے، جو زندگی بھر ان کا معمول تھا۔ ہم نے اپنے بچپن سے اپنے والد کو اسی طرح نوافل ادا کرتے دیکھا ہے۔ دور جوانی میں بھی ان کا یہی معمول تھا۔

ایک چھوٹی سی بھورے رنگ کی بلی ان کے سیل میں ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، یوں محسوس ہورہا تھا گویا بلی بھی ان کے ساتھ دعا اور عبادت میں مصروف ہے۔ نظامی صاحب کا تین سالہ پوتا معاذ دروازے کی سلاخوں پر چڑھ گیا اور پکارا، دادا جان ہم آگئے ہیں، آپ دروازہ کھولیں۔ والد صاحب نے اپنی نماز بڑے سکون کے ساتھ مکمل کی۔ پھر جانماز کے اوپر کھڑے ہوگئے، ہماری طرف رخ کیا اور نہایت پُرسکون انداز میں ہم سب کو مسکرا کر دیکھا۔ پھر پوچھا ماشاء اللہ آپ سب آگئے ہیں؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ الوداعی ملاقات ہے۔میری بہن نے بہت جذباتی انداز میں جواب دیا، اگر اللہ چاہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ آخری ملاقات نہ ہو۔ بہن کی اس گفتگو سے پورا ماحول انتہائی جذباتی ہوگیا۔اس موقع پر والد گرامی قدر نے ہم سب کو حوصلہ اور تسلی دی اور کہا کہ تم میں سے ہر ایک کو صبرواستقامت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ سلاخوں کے پیچھے سے انہوں نے اپنا ہاتھ باہر نکال کر ہم سے مصافحہ کیا۔ اس وقت انہوں نے سفید کرتا اور لنگی پہن رکھی تھی۔ گرمی کی وجہ سے ان کا لباس بھیگا ہوا تھا۔ کمرے میں کوئی روشن دان یاکھڑکی نہیں تھی۔ اس کے باوجود ان کا چہرہ روشن اور انتہائی پُرسکون تھا۔ ان کے چہرے سے ہرگز کسی غصے یا پریشانی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ ہماری درخواست پر جیل حکام نے دروازہ کھول دیا۔ والد محترم باہر نکل آئے اور سب سے ملتے ملاتے پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ گئے۔

والد صاحب نے سب سے پہلے ہر ایک کانام لے کر اس کی خیریت دریافت کی۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مَیں رحم کی اپیل کروں گا؟ مَیں نے جواب دیا کہ مَیں نے کوئی جرم نہیں کیا اور اس بات کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کہ صدر مملکت یا کسی بھی شخصیت سے رحم کی اپیل کروں۔ رحم کی اپیل کا مطلب تو یہ ہوگا کہ مَیں نے ارتکاب جرم کیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، جس پر ہمیشہ سے میرا غیرمتزلزل ایمان رہا ہے۔ان شاء اللہ اپنے اس ایمان میں کوئی کمزوری نہیں آنے دوں گا او رکسی مخلوق سے کوئی امید باندھنے کے بجائے اپنی تمام امیدیں اسی سے وابستہ رکھوں گا۔ آج بعد دوپہر ڈی آئی جی جیل خانہ جات میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا کہ آپ صدر صاحب سے معافی کے لئے ایک درخواست لکھ دیں۔ میں نے واضح طور پر اسے لکھ کر دیا کہ میں کسی سے بھی رحم کی بھیک نہیں مانگوں گا۔ 11؍مئی کو شہید کا جسد خاکی ان کے گاؤں میں صبح فجر کے وقت سرکاری کارندوں نے ان کے خاندان کے سپرد کیا۔ حکومت کی خواہش یہ تھی کہ جلد از جلد جنازہ ہوجائے تاکہ اس میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک نہ ہوسکے۔ بہرحال شہید کے بیٹے بیرسٹر مومن نجیب الرحمن نے اپنے باپ کی میت وصول کرنے کے بعد اعلان کیا کہ جنازہ ساڑھے سات بجے ہوگا۔ بیٹے نے جنازے سے قبل مختصر خطاب بھی کیا اور نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ شہید کے جنازے میں ہزاروں لوگ اُمڈ آئے۔ نہایت رقت آمیز مناظر کے ساتھ سوشل میڈیا پر جنازے کے مناظر دکھائے گئے۔ جو آج بھی دل میں تازہ ہیں۔

رد عمل:  ترکی اور پاکستان نے سرکاری طور پر اس کی مذمت کی ۔
  ترکی نے مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی کی شدید مذمت کی تھی اور اسے “ناانصافی” قرار دیا تھارد عمل کے طور پر ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ انہوں نے احتجاجاً سفیر کو واپس بلایا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں ترکی کے سفیر ‘دیوریم اوزترک’ (Devrim Ozturk) تھے۔

مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی اور بنگلہ دیشی ٹریبیونل (ICT) کے طریقہ کار پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی تھی اور اسے سیاسی انتقام کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔

اس پھانسی پر مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کا ردعمل درج ذیل تھا:

پاکستان کا ردعمل

پاکستان نے اس پھانسی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے “انتہائی افسوسناک” قرار دیا۔

  • وزارتِ خارجہ: پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن لیڈروں کو “ناقص ٹرائلز” کے ذریعے ختم کرنا جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔
  • قومی اسمبلی: پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں اس پھانسی کی مذمت کی گئی۔
  • سفارتی کشیدگی: اس واقعے کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان نے ایک دوسرے کے سفیروں کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا، جس سے تعلقات میں مزید تلخی آئی۔

بین الاقوامی اداروں کا موقف

  • اقوامِ متحدہ (UN): اقوامِ متحدہ نے بنگلہ دیشی ٹریبیونل کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ یہ ٹرائل منصفانہ سماعت اور عالمی قانونی معیار (Due Process) کے مطابق نہیں تھا۔
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل: اس تنظیم نے پھانسی کو “انصاف کی فراہمی میں ناکامی” قرار دیا اور ٹرائل کو “ناقص” (Flawed) کہا۔
  • ہیومن رائٹس واچ (HRW): انہوں نے تنقید کی کہ دفاعی گواہوں کی تعداد محدود تھی اور ملزم کو اپنی صفائی کا پورا موقع نہیں دیا گیا، جو کہ عالمی معیارات کی خلاف ورزی ہے۔

دیگر مغربی ممالک

  • ترکی: ترکی نے احتجاجاً ڈھاکہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور اس سزا کو ایک “ناانصافی” قرار دیا۔
  • امریکہ: امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جب تک ٹرائل کا عمل عالمی معیار کے مطابق نہ ہو، سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہونا چاہیے۔ امریکی قانون سازوں نے بھی اس ٹریبیونل کو سیاسی عداوت کا ذریعہ قرار دیا۔
  • یورپی یونین (EU): یورپی یونین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور بنگلہ دیش سے سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔۔
  • بنگلہ دیشی حکومت نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنا اندرونی معاملہ اور 1971 کے متاثرین کے لیے انصاف قرار دیا تھا۔

خلیجی ممالک (سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات)

خلیجی ممالک کی حکومتوں نے عمومی طور پر اسے بنگلہ دیش کا “اندرونی معاملہ” سمجھا، جس کی وجہ سے ان کی جانب سے کوئی بڑی باضابطہ سفارتی مذمت سامنے نہیں آئی:

سعودی عرب: سعودی حکومت کی جانب سے کوئی سخت سرکاری بیان جاری نہیں ہوا، تاہم سعودی میڈیا (جیسے عرب نیوز اور العربیہ) نے ٹرائل کی شفافیت پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعتراضات کو نمایاں طور پر شائع کیا۔

 

قطر: قطری میڈیا (جیسے الجزیرہ) نے اس ٹرائل کو “سیاسی انتقام” کے طور پر رپورٹ کیا اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے احتجاج کو بھرپور کوریج دی۔۔

دیگر اہم پہلو

  • اسلامی تعاون تنظیم (OIC): او آئی سی نے مجموعی طور پر بنگلہ دیشی حکومت سے سزائے موت روکنے اور ٹرائل میں شفافیت برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی۔
  • سیاسی جماعتوں کا ردعمل: کویت اور دیگر عرب ممالک کی اخوان المسلمون سے وابستہ تنظیموں اور مذہبی حلقوں نے اس پھانسی کی شدید مذمت کی اور غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا تھا۔

مشرقِ وسطیٰ کے اکثر ممالک نے اس وقت بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات اور وہاں سے آنے والی لیبر فورس کی وجہ سے سرکاری سطح پر خاموشی اختیار کی، جبکہ عوامی اور مذہبی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا

آج اسی بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں ان کے ایک صاحبزادے بیرسٹر مومن نجیب الرحمٰن   منتخب رکن اسمبلی کی حثیت سے عزت و احترام کے ساتھ اور باوقار نمائندگی کر رہے ہیں۔