گرفتار مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات

شوبز اور سیاسی شخصیات سے روابط کا دعویٰ ،انمول عرف پنکی اور ارمغان کیس میں مماثلت سامنے آگئی

May 14, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: گرفتار مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پنکی سے 700 سے 800 افراد کوکین خریدتے تھے، اس کے 100 سے 150 مستقل کوکین خریدار تھے جن میں شوبز شخصیات اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق منشیات کے نیٹ ورک کے مرکزی کردار سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ زیرِ حراست ملزم ذیشان، انمول عرف پنکی کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالتا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ سے رابطے میں رہنے والا ایک پولیس اہلکار تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آسکا۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ملزمہ سے برآمد ہونے والی منشیات کی فرانزک رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے جبکہ مزید شواہد کی روشنی میں نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کا 6 رکنی گینگ کراچی کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں میں سرگرم تھا اور مختلف طریقوں سے منشیات کی سپلائی کی جاتی تھی۔تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔

کراچی میں منشیات فروشی کے ہائی پروفائل کیسز کی تحقیقات کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ انمول عرف پنکی کا طریقہ کار اس سے قبل گرفتار ہونے والے منشیات فروش ارمغان سے مشابہت رکھتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہر میں امپورٹڈ منشیات کا ایک منظم جال بچھا ہوا ہے۔

انمول عرف پنکی محض مقامی ڈیلر نہیں بلکہ اس کے تانے بانے بیرون ملک منشیات کارٹلز سے جڑے ہوئے ہیں، ملزمہ ارمغان کی طرح ’’جینگل‘‘ نامی خاص منشیات بیرون ملک سے منگوا کر کراچی کے پوش علاقوں میں فروخت کرتی تھی۔ انکشاف ہوا ہے کہ پنکی کے کلائنٹس کی بڑی تعداد اس خاص کوکین کی تھی جو وہ خود تیار کرتی تھی، اس کی تیار کردہ کوکین کی مارکیٹ میں بہت زیادہ مانگ تھی۔

تحقیقات کے مطابق اس سے قبل گرفتار ہونے والے ملزمان ارمغان اور شیراز نے بھی دورانِ تفتیش اعتراف کیا تھا کہ وہ بیرون ملک سے مہنگی اور امپورٹڈ منشیات منگوا کر شہر کے بڑے حلقوں میں سپلائی کرتے تھے۔انمول عرف پنکی کی سرگرمیاں بھی اسی طرز پر استوار تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ ایک ہی عالمی سپلائی لائن کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

پولیس اب اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ یہ منشیات کس راستے سے پاکستان لائی جا رہی تھیں اور اس عالمی کارٹل میں مزید کون کون سے بااثر افراد شامل ہیں۔