انڈیا میں پاکستان سے بات چیت کی حامی آوازیں مثبت پیش رفت ہیں ، ترجمان دفترِ خارجہ

پاکستان اس حوالے سے انڈیا کے سرکاری مؤقف کا انتظار کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ

May 14, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مبینہ بیک چینل مذاکرات کی خبروں پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کر سکتے۔

صحافی وسیم عباسی کے سوال کے جواب میں ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کے اندر مکالمے کے حق میں اٹھنے والی آوازیں ایک مثبت پیش رفت ہیں اور امید ہے کہ وہاں جنگی بیانات اور جارحانہ رویہ کم ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے انڈیا کے سرکاری مؤقف کا انتظار کرے گا۔

بیک چینل یا ٹریک ٹو سفارت کاری سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ وہ اس بارے میں آگاہ نہیں ہیں اور اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق اگر اس حوالے سے بات کی جائے تو ’پھر یہ بیک چینل نہیں رہے گا۔‘

دوسری جانب انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل منوج نروانے نے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ مکالمے اور عوامی روابط کی حمایت کی ہے۔

انھوں نے آر ایس ایس کے رہنما دتاتریہ ہوسبالے کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط اہم ہیں۔

ممبئی میں ایک تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل نروانے کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے عام شہریوں کے مسائل، جیسے خوراک، کپڑا اور رہائش، یکساں ہیں اور عام آدمی کا سیاست سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق جب دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے تو ریاستی سطح پر بھی بہتری آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے‘، تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انڈیا ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔